دہلی میں ایل پی جی کا بحران! باہر کھانے پر انحصار کرنے والے پریشان، کہیں ہوٹل بند تو کہیں مینو تبدیل

قومی راجدھانی کے مشہور لکشمی نگر میں ایک چائے فروش نے بتایا کہ کمرشیل سلنڈرمل نہیں رہا ہے اور بمشکل ملتا ہے تو جو سلنڈرایک ہفتہ پہلے 850 سے 900 روپئے میں ملتا تھا وہ آج 2500 روپئے میں خریدنا پڑا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ ایران پر یکطرفہ حملے کے بعد جوابی کارروائی کے دوران دنیا بھرمیں تیل اورگیس سپلائی کا اہم راستہ آبنائے ہرمز متاثر ہونے سے دنیا بھر میں مچی کھلبلی کا اثر ہندوستان میں محسوس کیا جارہا ہے جہاں گیس کے بحران کے حوالے سے کہرام مچ گیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں کمرشل گیس سلنڈر نہ ملنے کی وجہ سے تقریباً 20 فیصد ہوٹل بند ہوگئے ہیں اور جو کچھ کھلے ہوئے ہیں ان میں سے زیادہ تر نے کھانے کے ریٹ بڑھا دیئے ہیں۔ جس کی وجہ سے باہرکھانے پر انحصار کرنے والے بیچلر اور دیگر لوگوں کے لیے بڑی مصیبت کھڑی ہوگئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی فوڈ چین پر بھی زبردست اثر پڑا ہے۔

دہلی کا دل کہا جانے والا کناٹ پلیس بھی اس بحران سے مستثنیٰ نہیں رہا ہے۔ قومی راجدھانی کے مشہور کاروباری اورسیاحتی مقام کناٹ پلیس (سی پی) کے مشہور فوڈ جوائنٹس کو بھی اس کا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ صرف بزنس ہی نہیں، لوگ بھی اب اپنے پسندیدہ ذائقے کے لیے ترسنے لگے ہیں۔ درحقیقت سی پی کے مشہور چھولے بھٹورے کی دکان پراب ’بھٹورے نہیں،صرف چاول ملے گا‘ کا بورڈ چسپاں کردیا گیا ہے۔ یہاں کی گلیوں میں دہائیوں سے ایک دکان ہے جو چھولے بھٹورے کے لیے مشہور ہے۔ کھانے کے شوقین کئی کلومیٹر دور سے یہاں صرف چھولے کے چٹکارے لینے آیا کرتے ہیں لیکن اب اس دکان کے باہر پوسٹر لگا دیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہاں چاول کے علاوہ کچھ نہیں مل پائے گا۔


یہ صورتحال صرف ایک دکان کی بات نہیں ہے۔ یہ اس آگ کا اثر ہے جو سینکڑوں کلومیٹر دور ایران اور اسرائیل کے درمیان لگی ہوئی ہے اور جس کی تپش دنیا کے ساتھ ساتھ ہندوستان تک پہنچ گئی ہے۔ کچھ اسی طرح کے حالات راجدھا نی کے دیگر علاقوں میں بھی پیدا ہوگئے ہیں جہاں کمرشل سلنڈر نہ ملنے کی وجہ سے کئی ہوٹل بند ہوگئے ہیں یا انہوں نے اپنے سامان کی قیمت کئی گنا بڑھا دی ہے۔

راجدھانی کے لکشمی نگر میں ایک چائے فروش نے بتایا کہ کمرشیل سلنڈرمل نہیں رہا ہے اور بمشکل ملتا ہے تو جو سلنڈرایک ہفتہ پہلے 850 سے 900 روپئے میں ملتا تھا وہ آج 2500 روپئے میں خریدنا پڑا ہے۔ چائے فروش نے کہا کہ ایسی صورت میں ہمیں 10 روپئے کی چائے اب 20 روپئے کی بیچنا پڑے گی۔ بتادیں کہ کوچنگ اور کمرشل سرگرمیوں کا مرکز ہونے کی وجہ  سے لکشمی نگرعلاقے میں باہری طلبا کی اکثریت ہے جو کرائے کی رہائش اور باہر کھانے پر انحصار کرتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ایسے طلبا اور مزدور پیشہ افراد کو سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔