شاہانہ شادیوں پر ایل پی جی کا سایہ، زیادہ خرچ سے بچنے کے لیے کورٹ میرج میں اچانک ہوا اضافہ
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ایک طرف گیس کی قلت ہے تو دوسری طرف کچھ بینکوئٹ ہال ڈیزل ایندھن کے نام پراضافی چارج کر رہے ہیں جس سے شادی کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں سادہ شادی بہترین آپشن ہے۔
قومی راجدھانی میں ایل پی جی سلنڈر کی قلت نے شادیوں کے دسترخوان پر تو پہلے ہی قینچی چلا دی ہے، اب تو لوگ اس بحران سے نجات حاصل کرنے کے لیے میرج ہال کے بجائے مندر میں اور کورٹ میرج کے ذریعہ سادگی سے شادیوں پر زور دے رہے ہیں۔ گیس کی قلت اور مہنگے سلنڈروں کے خرچ سے بچنے کے لیے شادیاں ملتوی نہیں کی جاسکتی ہیں اس لیے لوگ ایسے متبادل اختیار کر رہے ہیں۔
ایل پی جی کی دستیابی میں کمی کی وجہ سے بینکوئٹ ہال اور کیٹرنگ سروسز کو متاثر ہو رہی ہیں۔ گیس کی قلت کے باعث کئی مقامات پر بڑی تقریبات ناممکن ہوتی جارہی ہیں، جس سے لوگوں کو متبادل انتظامات کرنے پڑ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں دولہا اور دلہن پہلے اپنی شادی عدالت میں رجسٹر کر وارہے ہیں اور بعد میں محدود لوگوں کی موجودگی میں خاندان کے مندروں میں شادی کر رہے ہیں۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ایک طرف گیس کی قلت ہے تو دوسری طرف کچھ بینکوئٹ ہال ڈیزل ایندھن کے نام پر اضافی چارج کر رہے ہیں جس سے شادی کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں سادہ شادی بہترین آپشن ہے۔ دہلی کے وکلاء نے بھی بتایا کہ حالیہ دنوں میں کورٹ میرج کے معاملات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ساکیت اور تیس ہزاری عدالتوں میں پہلے کے مقابلے زیادہ جوڑے اپنی شادیاں رجسٹر کروا رہے ہیں۔ اگر ایل پی جی کا بحران جلد حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں سادہ اور محدود تقریبات کا رجحان تیزی سے روایتی شادیوں کی جگہ لے سکتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔