لوک سبھا میں آج اینٹی پیپر لیک بل پر بحث، اپوزیشن ارکان نے ترامیم کے لیے دیں 93 تجاویز!

ایوان میں منگل کے روز ’عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) بل 2026‘ پر بحث ہونے کا امکان ہے۔ ایوان میں بحث کے لیے تقریباً 6 گھنٹے مقرر کیے گئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>لوک سبھا / آئی اے این ایس</p></div>
i

پیپر لیک کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے والے طلباء پر پولیس کی مبینہ سخت کارروائی کے معاملے پر پارلیمنٹ میں جاری تعطل آج منگل کے روز ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ لوک سبھا میں کل پیر کی دیر شام تک تعطل برقرار رہا، لیکن حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بل پر بحث کرانے پر اب اتفاق ہو گیا ہے۔ ایوان میں آج منگل کے روز ’عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) بل 2026‘ پر بحث ہونے کا امکان ہے۔ ایوان میں بحث کے لیے تقریباً 6 گھنٹے مقرر کیے گئے ہیں۔ اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے اس بل میں 93 ترامیم بھی تجویز کی ہیں۔ بیشتر اراکین پارلیمنٹ نے پیپر لیک سمیت دیگر امتحانات میں بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے جرائم پر قید کی سزا اور جرمانہ دونوں کا مطالبہ کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پیپر لیک بل پر لوک سبھا میں اپوزیشن کی جانب سے بحث کا آغاز پرینکا گاندھی وڈرا کریں گی۔ بی جے پی کی جانب سے بانسری سواراج، تیجسوی سوریا، انوراگ ٹھاکر، ششانک منی ترپاٹھی، بھولا سنگھ، سنجے جیسوال اور وشنو دت شرما اپنی بات رکھیں گے۔ انڈیا بلاک کی جانب سے پرینکا گاندھی کے علاوہ کے سی وینوگوپال، گورو گگوئی، کے سبرامنیم (سی پی آئی)، ہرسمرت کور (ایس اے ڈی) اور شرمیلا سرکار (ٹی ایم سی) بھی بحث میں حصہ لیں گی۔ این سی پی آئی کی سایونی گھوش اور متالی باگ بھی اپنا موقف پیش کریں گی۔ بل پر منگل کے روز دوپہر 2 بجے سے بحث شروع ہونی ہے۔

اصلاح کے لیے پہلی تجویز ’آر ایس پی‘ کے این کے پریم چندرن کی ہے، جو چاہتے ہیں کہ بل کو یکم دسمبر تک عوامی رائے حاصل کرنے کے لیے تقسیم کر دیا جائے، اور اسپیشل ٹاسک فورس تشکیل دینے کا اختیار مرکزی حکومت کے بجائے ریاستی حکومتوں کو دیا جائے۔ کانگریس کے وشال دادا پاٹل اور شیام کمار بروے کے ساتھ ساتھ سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے آنند بھدوریا چاہتے ہیں کہ امتحان میں بے ضابطگی کرنے والے قصورواروں کی جائیداد، جس میں بینک اکاؤنٹس، شیئرز اور سرمایہ کاری بھی شامل ہے، ضبط کر لینی چاہئے۔ وشال پاٹل کے علاوہ کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ بینی بہینن، ششی کانت سینتھل اور شفیع پرمبل، اور سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمنٹ کے رادھاکرشنن بھی چاہتے ہیں کہ بل میں ان امیدواروں کے لیے مناسب معاوضہ، امتحان فیس کی واپسی اور آمد و رفت کے اخراجات کی ادائیگی کی شق شامل کی جائے، جن کے امتحانات غلط طریقوں کی وجہ سے منسوخ ہوئے۔ اس کے علاوہ یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں امتحان دہندگان کو عمر کی حد اور امتحان (اٹیمپٹس) کی تعداد میں بھی رعایت دی جائے۔


شفیع پرمبل کی جانب سے ایک اور اہم تجویز پیش کی گئی ہے کہ اگر پیپر لیک سے ایک ہزار یا اس سے زیادہ امیدوار متاثر ہوتے ہیں تو جواب دہی طے کرنے کے لیے ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تحقیقات کرائی جائیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دوبارہ امتحان 60 دنوں کے اندر منعقد کرایا جائے۔ ششی کانت سینتھل چاہتے ہیں کہ ’وہسل بلوورز‘ کو تحفظ دیا جائے۔ یہی تجویز ڈین کوریاکوس، شفیع پرمبل اور آنند بھدوریا جیسے اراکین پارلیمنٹ نے بھی دی ہے۔ سینتھل امتحانات کی فزیکل اور ڈیجیٹل سیکورٹی کے حوالے سے سالانہ آڈٹ کرانے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں، جس میں سوالیہ پرچہ تیار کرنے، اس کی طباعت، ذخیرہ، نقل و حمل اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سمیت تمام مراحل شامل ہوں۔ اسی طرح ضروری سیکورٹی آڈٹ کا مطالبہ ڈین کوریاکوس نے بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ آنند بھدوریا نے اگزامنیشن سیکورٹی سیل قائم کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ابھئے کمار سنہا کا مطالبہ ہے کہ امتحان سیکورٹی، سائبر سیکورٹی اور سوالیہ پرچوں کی نگرانی کے لیے ایک نیشنل پبلک اگزامنیشن انٹیگریٹی اتھارٹی قائم کی جائے۔

سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ آنند بھدوریا نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ امتحانات میں بدعنوانی یا بے ضابطگی کے مرتکب قرار دیے گئے افراد پر عوامی امتحانات، سرکاری تقرریوں، سرکاری ملازمت یا سرکاری کانٹریکٹ میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی عائد کی جائے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ہبی ایڈن نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر کسی سرکاری ملازم کو پیپر لیک کیس میں ملزم بنایا جائے تو عدالت سے بری ہونے یا مقدمے سے بری الذمہ قرار دیے جانے تک معطل رکھا جائے۔ ڈین کوریاکوس نے اپنی تجویز میں خاص طور پر اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے معاملے میں ریاستوں کے کردار کو اہم قرار دیا ہے، کیونکہ ان کے مطابق مرکزی حکومت کو ایس ٹی ایف تشکیل دینے سے پہلے متعلقہ ریاست کی منظوری لینا چاہیے۔ کانگریس کے منوج کمار نے تجویز دی ہے کہ پیپر لیک کے معاملات کی تحقیقات سی بی آئی سے کرائی جائیں۔ اسی طرح ترنمول کانگریس کے لوک سبھا میں ڈپٹی لیڈر سوگت رائے نے تجویز دی ہے کہ ان معاملات کی تحقیقات سپریم کورٹ کی نگرانی اور مانیٹرنگ میں کرائی جائیں۔