ہنگامہ کے سبب لوک سبھا کی کارروائی 2 بجے تک کے لیے ملتوی، راجیہ سبھا سے اپوزیشن کا واک آؤٹ
کانگریس رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے کہا کہ امت شاہ پارلیمنٹ احاطہ میں تو آتے ہیں، لیکن ایوان کے اندر نہیں آتے، تو پھر جواب کون دے گا؟ یہی ایشو ہم نے اٹھایا اور دوپہر 2 بجے تک کے لیے واک آؤٹ کیا۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ایک بار پھر ہنگامہ کی نذر ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ لوک سبھا کی کارروائی آج شروع ہوتے ہی ہنگامہ جیسے حالات پیدا ہو گئے، اور پھر ایوان کی کارروائی 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ راجیہ سبھا میں بھی کچھ ایسے ہی حالات دیکھنے کو ملے۔ ایوان کی کارروائی تو ملتوی نہیں ہوئی، لیکن امت شاہ کی غیر موجودگی کے سبب اپوزیشن پارٹیوں نے اپنی سخت ناراضگی ظاہر کی۔ اپوزیشن پارٹیاں طلبا پر پولیس کی بربریت معاملہ میں امت شاہ کا بیان چاہتی ہیں، اس لیے انھیں ایوان میں موجود نہ دیکھ کر اعتراض کیا اور راجیہ سبھا سے واک آؤٹ کر گئے۔
راجیہ سبھا سے واک آؤٹ معاملہ میں کانگریس رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے کہا کہ ’’امت شاہ پارلیمنٹ احاطہ میں تو آتے ہیں، لیکن ایوان کے اندر نہیں آتے۔ ایسے میں (ہمارے سوالوں کا) جواب کون دے گا؟‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’جتیندر سنگھ لاٹھی چارج، خواتین کی بے عزتی یا اے کے-47 سے فائرنگ کے بارے میں جواب نہیں دے سکتے۔ اس کا جواب صرف امت شاہ ہی دے سکتے ہیں۔ ہم ان سے ایسا کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں، لیکن وہ ایوان میں نہیں آنا چاہتے۔ یہی ایشو ہم نے اٹھایا اور دوپہر 2 بجے تک واک آؤٹ کیا۔‘‘
پرمود تیواری نے طلبا پر بربریت معاملہ میں امت شاہ کے بیان کا مطالبہ ایوان بالا میں مضبوطی کے ساتھ رکھا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آئین کے آرٹیکل 75 کے مطابق کابینہ ایوان کے تئیں جوابدہ ہے۔ دہلی میں طلبا پر بربریت کی گئی، ان پر پیلیٹ گن کا استعمال کیا گیا۔ ہم بس اتنا ہی کہہ رہے ہیں کہ وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں آئیں اور اس معاملے پر جواب دیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن ایوان کو پُرامن انداز میں چلانا چاہتا ہے، لیکن برسراقتدار طبقہ بضد ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
