حدبندی کو خواتین ریزرویشن سے جوڑنا ’سیاسی نوٹ بندی‘ ثابت ہوگا: ششی تھرور
ششی تھرور نے خواتین ریزرویشن کو حدبندی سے جوڑنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’سیاسی نوٹ بندی‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو فوری نمائندگی دی جائے اور بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا جائے

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما ششی تھرور نے خواتین ریزرویشن قانون میں ترمیم کے لیے حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے مختلف بلوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حدبندی کی موجودہ کوشش ’سیاسی نوٹ بندی‘ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ایک اہم سماجی مسئلے کو پیچیدہ انتظامی عمل سے جوڑ کر خواتین کی امیدوں کو غیر یقینی صورتحال میں ڈال رہی ہے۔
لوک سبھا میں بحث کے دوران ششی تھرور نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کو حدبندی کے عمل سے جوڑنا دراصل ہندوستانی خواتین کی امنگوں کو ایک ایسے مرحلے میں قید کرنا ہے جو نہ صرف متنازع ہے بلکہ انتظامی طور پر بھی نہایت پیچیدہ ہے۔ ان کے مطابق اس وقت ملک میں خواتین کی سیاسی شراکت کے حوالے سے تقریباً تمام جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے موجود ہے اور ہر بڑی سیاسی پارٹی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ اب صرف علامتی اقدامات کا دور ختم ہو چکا ہے اور حقیقی شمولیت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کا دعویٰ تو کر رہی ہے لیکن عملی طور پر اس عمل کو مختلف شرائط کا پابند کر دیا گیا ہے۔ ان شرائط میں پارلیمنٹ کے اجلاس میں توسیع، 2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کا استعمال اور حدبندی کا عمل شامل ہے، جس سے پورا معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔
ششی تھرور نے زور دے کر کہا کہ خواتین ریزرویشن کی ’فصل تیار ہے‘ اور اسے موجودہ پارلیمانی نشستوں کی بنیاد پر فوری نافذ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح نوٹ بندی کے وقت عجلت میں فیصلہ لیا گیا تھا اور اس کے منفی اثرات سامنے آئے، اسی طرح اگر حدبندی کو بھی جلدبازی میں نافذ کیا گیا تو یہ ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حدبندی جیسے اہم معاملے پر سنجیدہ اور تفصیلی بحث ضروری ہے تاکہ چھوٹی اور بڑی ریاستوں کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔ خاص طور پر ان ریاستوں کے مفادات کا خیال رکھنا ہوگا جنہوں نے آبادی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ ششی تھرور نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان بلوں کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا جائے تاکہ تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے اور ایک متوازن و قابل عمل حل سامنے آ سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔