سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا رکن بنانے پر ماہرین قانون نے اٹھائی انگلی

سنجے ہیگڑے، پرشانت بھوشن، گوتم بھاٹیا اور دشینت دَوے جیسے ماہرین قانون کے ساتھ ساتھ اسدالدین اویسی نے بھی سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے کو ’عدلیہ کی آزادی‘ کا خاتمہ قرار دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا کا نامزد رکن بنائے جانے کے بعد ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا ہے۔ سیاسی حلقہ سے لے کر ماہرین قانون بھی صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے ذریعہ سبکدوشی کے محض چار ماہ بعد رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے سے حیران ہیں۔ اس فیصلہ نے کئی ایسے سوال بھی کھڑے کر دیے ہیں جس کا جواب ہنوز ملتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ سینئر وکلاء سنجے ہیگڑے، پرشانت بھوشن، گوتم بھاٹیا اور آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سربراہ اسدالدین اویسی تک نے سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے پر سوال کھڑے کیے ہیں۔

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’اب یہ صرف ان کے (رنجن گگوئی) ذاتی جیوڈیشیل ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے۔ اس طرح سے انھوں نے اپنے ساتھ بیٹھنے والے سبھی ساتھی ججوں کی آزادی اور غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔‘‘ سینئر وکیل گوتم بھاٹیا نے تو اس قدم کو آزاد عدالت کی موت قرار دے دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’چیزوں کے واضح ہونے میں کچھ وقت ضرور لگا اور وہ کھل کر سامنے آ گیا، لیکن ان سب کے بعد ’آزاد عدلیہ‘ کی موت ہو گئی۔‘‘

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے اپنے ٹوئٹ میں رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے کا نوٹیفکیشن شیئر کرتے ہوئے سیدھے یہ سوال کر دیا ہے کہ ’کیا یہ معاوضہ ہے؟‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ ’’کوئی شخص آخر کس طرح ججوں کی آزادی کا بھروسہ کر سکتا ہے۔ یہاں کئی سوال ہیں۔‘‘ یہاں قابل ذکر ہے کہ اسدالدین اویسی ایودھیا متنازعہ اراضی معاملہ میں بابری مسجد کے خلاف فیصلہ سنائے جانے سے پہلے ہی ناراض ہیں اور کئی اس فیصلہ پر انگلی بھی اٹھا چکے ہیں۔ سابق چیف جسٹس کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے کے بعد انھوں نے اپنی اس ناراضگی کو ایک بار پھر ظاہر کیا ہے۔

مشہور و معروف وکیل اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے بھی سابق چیف جسٹس کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے کے بعد اپنا سخت رد عمل سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’جنسی استحصال کا الزام لگانے والے ملازم (جس کی ایک فرضی معاملے میں گرفتاری اور پٹائی ہوئی، شوہر اور بھائی کو ملازمت سے نکلوایا گیا) کو ڈرانے کے لیے حکومت کی مدد لینے کے بعد، اور ایودھیا و رافیل کیس حکومت کو تحفہ میں پیش کرنے کے بعد، گگوئی راجیہ سبھا سیٹ سے نوازے گئے!‘‘

سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سربراہ دشینت دَوے نے سابق چیف جسٹس کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے کو پوری طرح سیاسی معاملہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے ایک انگریزی روزنامہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ (راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا جانا) واضح طور پر سیاسی عمل ہے۔ یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ عدلیہ کو کس طرح پامال کیا جا رہا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’یہ عدالتی آزادی کی عدم موجودگی کا واضح ثبوت ہے۔‘‘

Published: 17 Mar 2020, 10:15 AM
next