جے این یو طلباء پر پولس کا لاٹھی چارج قابل مذمت اقدام: سبھاش چوپڑہ
طلبا لیڈران کی ہنگامی میٹنگ میں اتفاق رائے سے قرار داد منظور، جے این یو طلبا پر لاٹھی چارج کے لیے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کرنے اور اضافی فیس واپس لینے کا پردیش کانگریس کا مطالبہ

نئی دہلی (پریس ریلیز): دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر سبھاش چوپڑہ نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلباء پر پولس کے ذریعہ کی گئی بے رحمانہ کارروائی اور مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے ذریعہ جبراً فیس بڑھائے جانے کے تغلقی فرمان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس جدوجہد کے اس وقت میں جے این یو طلبا کے ساتھ کھڑی ہے۔
قبل ازیں، سبھاش چوپڑہ کی قیادت میں جے این یو معاملہ پر غور وغوص کرنے کے لئے راجیو بھون پارٹی دفتر میں جمعرات کے روز دہلی کے سابق طلبا یونین صدور اور طلبا لیڈران کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ اجلاس میں ریاستی صدر سبھاش چوپڑہ کے علاوہ سابق ڈوسو صدر راکی تشیر، راگنی نائک، امرتا دھون، نیتو ورما، الکا لامبا، روہت چودھری، ڈوسو سکریٹری آشیش لامبا، سی پی متل، کمل کانت شرما، مانگے رام شرما، جتیندر بگھیل، پروین رانا، اور اکشے لاکڑا موجود رہے۔
اجلاس کے دوران سابق طلبا یونین کے صدر اور سابق رکن اسمبلی ہری شنکر گپتا نے تجویز پیش کی، جس میں مرکزی حکومت اور وزارت فروغ انسانی وسائل کے ذریعہ فیس میں اضافے کے فیصلہ کو فوری طور پر والپس لینے کی مانگ کرنے کے ساتھ ساتھ پولس کے ذریعہ پر امن طریقہ سے اپنے مطالبات کے حق میں تحریک چلانے والے طلبا پر بے رحمانہ تشدد اور لاٹھی چارج کی مذمت کی گئی۔ اس تجویز کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔
دریں اثنا، سبھاش چوپڑہ نے طلبا رہنماؤں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جے این یو طلبا پر جس طریقہ سے مودی حکومت کے اشارے پر پولس نے کارروائی کی ہے اس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ آئین میں اپنی بات رکھنے کا جو حق دیا گیا ہے ہے اسے بھی مودی حکومت چھین لینا چاہتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جے این یو انتظامیہ بھی حکومت کے دباؤ میں آکر کام کر رہی ہے اور پولس اور جے این یو انتظامیہ یکجا ہو کر بھگواکرن کی پالیسی کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ چوپڑہ نے انتباہ کیا کہ اگر فوری طلبا کو انصاف نہیں ملا تو پردیش کانگریس ان حق میں تحریک چلانے کو مجبور ہوگی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔