یوگی حکومت کے خلاف لاکھوں اساتذہ کریں گے اجتماعی چھٹی، سڑک پر اترنے کا اعلان

یو پی حکومت کے پرائمری اور اَپر پرائمری اسکولوں کے تقریباً 5 لاکھ اساتذہ نے 21 جنوری سے اجتماعی چھٹی پر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اساتذہ نے یوگی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سڑک پر اترنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش میں یوگی حکومت کی پالیسیوں سے ناراض لاکھوں اساتذہ نے اجتماعی چھٹی پر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 21 جنوری کو اساتذہ نے اجتماعی چھٹی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سڑکوں پر اترنے کی بات بھی کہی ہے۔ اس کے لیے ریاست کے بیسک ایجوکیشن افسر کے پاس اجتماعی طور پر درخواست بھی بھیجا گیا ہے۔

خبروں کے مطابق ریاست کے پرائمری اور اَپر پرائمری اسکولوں کے تقریباً پانچ لاکھ اساتذہ نے تعطیل پر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اساتذہ لگاتار ریاست کے سرکاری اسکولوں کے اسٹرکچر، بنیادی سہولیات کی کمی، ملازمین کی کمی کو پورا کرنے اور اساتذہ کے لیے پنشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن ریاست کی یوگی حکومت لگاتار ان کے مطالبات کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مطالبات کو لے کر اتر پردیش ٹیچرس ایسو سی ایشن نے نومبر 2019 میں نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما سے بات بھی کی تھی، لیکن بات چیت ناکام رہی تھی۔

اساتذہ کے اہم مطالبات اس طرح ہیں:

  • حکومت پرانی پنشن اسکیم نافذ کرے
  • مفت علاج کی سہولت کا فائدہ دے
  • یکساں کام کے لیے یکساں تنخواہ دے
  • یکساں خدمات کی شرطیں بااثر بنائے
  • خالی اساتذہ کے عہدوں کو بھرے

اساتذہ کا کہنا ہے کہ ’’سیلفی بیسڈ پریرنا ایپ سے اساتذہ کی نگرانی تو کی جا رہی ہے لیکن حکومت کو یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ کلاس میں پنکھے، فرنیچرس، بجلی اور صفائی ملازمین کی کتنی کمی ہے۔ حکومت اسکولوں کی بنیادی سہولیات پر کوئی بھی دھیان نہیں دے رہی ہے۔ اس لیے ایسو سی ایشن نے 21 جنوری کو ریاست کے سبھی سطح کے اسکولوں اور کالجوں میں تالابندی کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔‘‘

ٹیچرس ایسو سی ایشن کے کنوینر اوم پرکاش شرما کا کہنا ہے کہ ایسو سی ایشن کے نمائندہ وفد نے نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما سے بات چیت کی ہے، جس کے بعد انھوں نے ایسو سی ایشن کے میمورینڈم میں شامل نکات پر گفتگو کرنے سے معذرت کر لی۔ انھوں نے بتایا کہ ٹیچرس ایسو سی ایشن حکومت کے ذریعہ نظر انداز کیے جانے سے مایوس ہے۔ ایسو سی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات کو نہیں مانا گیا تو لاکھوں کی تعداد میں اساتذہ یو پی کی سڑکوں پر اتریں گے اور یوگی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔