کولکاتا: سابق وزیر فرہاد حکیم سے وابستہ کمپنیوں پر چھاپے، بدعنوانی کی تحقیقات

تحقیقاتی ٹیم دوپہر کے وقت جنوبی کولکاتہ کے ٹالی گنج سرکلر روڈ پر واقع حکیم پولی میکرس پرائیویٹ لمیٹڈ اور حکیم کیمیکلس کے دفاتر پہنچی۔ کولکاتہ پولیس کی موجودگی میں تلاشی لی گئی۔

فرہاد حکیم، تصویر آئی اے این ایس
i

ممتا بنرجی کی قیادت والی گزشتہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت کے دور میں مبینہ ادارہ جاتی بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے مغربی بنگال حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی عدالتی تحقیقاتی کمیٹی کی ایک ٹیم نے جمعرات کو بڑی کارروائی کی۔ ٹیم نے ریاست کے سابق وزیر برائے بلدیاتی امور و شہری ترقی اور کولکاتہ کے سابق میئر فرہاد حکیم کی 2 کارپوریٹ کمپنیوں کے دفاتر میں تلاشی لی۔

تحقیقاتی ٹیم دوپہر کے وقت جنوبی کولکاتہ کے ٹالی گنج سرکلر روڈ پر واقع حکیم پولی میکرس پرائیویٹ لمیٹڈ اور حکیم کیمیکلس کے دفاتر پہنچی۔ کولکاتہ پولیس کی موجودگی میں تلاشی لی گئی۔ دونوں کمپنیاں حکیم کی ہیں، جو ترنمول کانگریس کے 4 مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے ہیں اور مغربی بنگال کی سیاست میں ’بابی‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ کمپنیوں کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق حکیم ان کے مالک ہیں۔


خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے  مطابق اس معاملے کی جانکاری رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی کے ارکان یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے کہ کیا بدعنوانی سے کمائی گئی رقم ان دونوں کمپنیوں میں سے کسی ایک میں لگائی گئی تھی؟ ٹیم یہ بھی جانچ کر رہی تھی کہ کیا ان کمپنیوں کے کام کاج اور گزشتہ ریاستی حکومت کے دوران مبینہ ادارہ جاتی بدعنوانی کے درمیان کوئی تعلق ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ جب تحقیقاتی ٹیم پہنچی تو حکیم یا ان کے خاندان کا کوئی فرد دونوں دفاتر میں موجود نہیں تھا۔

قابل ذکر ہے کہ حکیم نے رواں سال ہوئے مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں کولکاتہ پورٹ اسمبلی سیٹ برقرار رکھی اور مسلسل چوتھی بار کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار راکیش سنگھ کو 56 ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی، جبکہ ریاست میں ترنمول کانگریس کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 14 جولائی کو وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے 2011 سے 2026 کے درمیان ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس حکومت کے دوران ادارہ جاتی بدعنوانی کے مختلف الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا۔


اس کمیشن کے سربراہ کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس بسواجیت بسو (ریٹائرڈ) ہیں۔ اس کی تحقیقات ایک سینئر انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) افسر کی نگرانی میں کی جا رہی ہے۔ کمیشن کا انتظامی کام ایک انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) افسر سنبھال رہے ہیں، جبکہ تکنیکی امور کی ذمہ داری مغربی بنگال ریونیو سروس کے ایک افسر کو دی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔