بنگال میں بی جے پی کا ’آپریشن لوٹس‘ ناکام، ترنمول کو توڑنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں: کیرتی آزاد

ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان کیرتی آزاد نے دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی کا ’آپریشن لوٹس‘ اب تک ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں اختلافات کے باوجود ممتا بنرجی کی قیادت مضبوط ہے

<div class="paragraphs"><p>کیرتی آزاد / آئی اے این ایس</p></div>
i

کولکاتا: ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان کیرتی آزاد نے دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی مغربی بنگال میں ’آپریشن لوٹس‘ کے ذریعے ممتا بنرجی کی قیادت والی پارٹی کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اب تک اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترنمول کانگریس کے اندر اختلافات اور استعفوں کے باعث سیاسی ہلچل جاری ہے۔

کیرتی آزاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ راجیہ سبھا کے رکن پرکاش چک برائک کے استعفے، بی جے پی کے رہنما نشی کانت دوبے کی رہائش گاہ کے باہر بعض رہنماؤں کی سرگرمیوں، مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کی رہائش گاہ پر باغی ارکان کی ملاقاتوں اور شوبھیندو ادھیکاری کی بعض ترنمول رہنماؤں سے ملاقاتوں کو الگ الگ واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ سب ترنمول کانگریس کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔


انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی رہنمائی میں ’آپریشن لوٹس‘ چلایا جا رہا ہے لیکن یہ مہم اب تک مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس میں جاری بحران کے درمیان ایک فہرست سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں پارٹی کے 19 لوک سبھا ارکان کے نام اور دستخط ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ یہ فہرست لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو بھیجے گئے ایک خط سے متعلق ہے، تاہم اس خط کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ باغی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ دستاویز ان کے موقف کے حق میں حمایت کو ظاہر کرتی ہے۔

پارٹی کے اندر اختلافات اس وقت مزید نمایاں ہو گئے جب متعدد ارکان پارلیمان نے استعفے دیے۔ پرکاش چک برائک اس ہفتے پارٹی اور راجیہ سبھا دونوں سے استعفیٰ دینے والے تیسرے رکن بن گئے۔ اس سے قبل سکھندو شیکھر رائے اور سشمیتا دیو بھی اپنے عہدوں سے الگ ہو چکے ہیں۔

سیاسی بحران کے دوران سینئر ترنمول رہنما کلیان بنرجی نے پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسی صورت میں پارٹی میں رہیں گے جب ابھیشیک بنرجی کو تمام قیادی عہدوں سے ہٹایا جائے گا۔ تاہم کیرتی آزاد نے ان بیانات کو زیادہ اہمیت دینے سے گریز کیا اور کہا کہ کلیان بنرجی جذباتی رہنما ہیں اور مشکل وقت میں ممتا بنرجی کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ان کے بقول وہ کبھی بھی ممتا بنرجی کے ساتھ بے وفائی نہیں کر سکتے۔


کیرتی آزاد نے مزید الزام لگایا کہ ترنمول کے بعض رہنماؤں پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کی سکیورٹی واپس لی جا رہی ہے لیکن انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے پارٹی کے رہنما خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جدوجہد کی سیاست کرتے ہیں اور ہر قسم کے سیاسی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سابق بین الاقوامی کرکٹر ہونے کے ناطے ان کی اپنی شناخت اور ساکھ ہے اور وہ کسی دباؤ کے سامنے جھکنے والے نہیں ہیں۔