ملکارجن کھڑگے کا مودی حکومت پر سخت حملہ- ’تمل ناڈو نفرت کے خلاف دیوار بنے گا‘
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے تمل ناڈو کے ہوسور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مودی حکومت پر شدید تنقید کی، حدبندی بل کو سازش قرار دیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ سیکولر اتحاد کو مضبوط کریں

ہوسور: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے تمل ناڈو میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مرکز کی نریندر مودی حکومت پر سخت تنقید کی اور ریاست کے عوام سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ قوتوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہوں۔
کھڑگے نے اپنے خطاب میں کہا کہ تمل ناڈو ان عظیم رہنماؤں کی سرزمین ہے جنہوں نے ہندوستان کو عزت، عقلی سوچ اور مساوات کا سبق دیا۔ انہوں نے پیریار ای وی راماسامی، سی این انادورائی اور ایم کرناندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان رہنماؤں کے نظریات آج بھی زندہ ہیں اور انہیں عملی طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دراوڑ منیتر کڑگم اور انڈین نیشنل کانگریس کے اتحاد کے تحت ان اصولوں کو نہ صرف یاد رکھا جا رہا ہے بلکہ انہیں مضبوط اور محفوظ بھی بنایا جا رہا ہے۔ کھڑگے نے زور دے کر کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ خواتین، انصاف، مساوات اور جمہوریت کے حق میں کھڑی رہی ہے، جبکہ انہوں نے مودی پر الزام لگایا کہ وہ ذات پات کے نظام یعنی چاتروَرنا کے حامی ہیں اور خواتین کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے عوام سے براہ راست سوال کرتے ہوئے کہا، ’’آپ مودی کو چاہتے ہیں یا ہمیں؟‘‘ کھڑگے نے تمل ناڈو کے عوام کی سیاسی بصیرت پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس ریاست کے لوگوں نے ہمیشہ سیکولرزم، کثرت پسندی اور سماجی انصاف کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایک بار پھر بڑی تعداد میں باہر نکلیں اور ایم کے اسٹالن کی قیادت کو مضبوط کریں اور سیکولر ترقی پسند اتحاد کو مزید طاقت دیں۔
انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کو چاہیے کہ وہ تقسیم کرنے والی قوتوں کے خلاف ایک مضبوط دیوار بنے، نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے۔ کھڑگے نے کہا کہ 4 مئی کے نتائج پورے ہندوستان کو یہ پیغام دیں کہ عوام نے نفرت کو مسترد کر دیا ہے اور ہم آہنگی کو منتخب کیا ہے۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سب مل کر جمہوریت کا دفاع کریں گے، آئین کی حفاظت کریں گے اور ایک مضبوط اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والا ہندوستان تعمیر کریں گے۔
دریں اثنا، صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کھڑگے نے حدبندی بل کے حوالے سے بھی مودی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے مل کر اس بل کو مسترد کیا کیونکہ یہ درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور ان ریاستوں کے خلاف تھا جہاں انتخابات ہو رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مودی کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ خواتین ریزرویشن بل کو مسترد کیا گیا۔ کھڑگے کے مطابق خواتین ریزرویشن بل اور نیا حدبندی بل دو الگ معاملات ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2023 میں خواتین ریزرویشن بل کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا اور خود مودی نے تمام جماعتوں کو مبارکباد دی تھی۔
کھڑگے نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس بل کو 2023 میں پاس کیا گیا تھا، اسے طویل عرصے تک نافذ ہی نہیں کیا گیا اور پھر 16 اپریل 2026 کی رات اسے اچانک نافذ کیا گیا۔ ان کے مطابق اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت نے سیاسی فائدے کے لیے حالات کو الجھایا۔
انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک چالاک جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی خواتین کا حقیقی احترام نہیں کرتی بلکہ صرف سیاسی فائدے کے لیے ان کے نام کا استعمال کرتی ہے۔ کھڑگے کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے اثرات مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔