روسی تیل خریدنے کی امریکی ’اجازت‘ کا معاملہ، ملکارجن کھڑگے نے کہا ’ہندوستان کی خود مختاری خطرے میں‘
کھڑگے نے مودی حکومت پر امریکہ کے دباؤ میں آنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ روسی تیل خریدنے کے لیے امریکہ سے ’اجازت‘ لینا ہندوستان کی سفارتی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے قومی خود مختاری متاثر ہوئی ہے

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے روسی تیل کی خریداری سے متعلق امریکہ کی جانب سے دی گئی عارضی رعایت کے معاملے پر مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان کی اسٹریٹجک خود مختاری اور قومی اقتدار اعلیٰ شدید خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خود مختار ملک کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اسے اپنے توانائی کے فیصلوں کے لیے کسی دوسرے ملک سے اجازت لینی پڑے۔
ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک طویل بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے ہندوستان کو 30 دن کی عارضی رعایت دے کر روسی تیل خریدنے کی اجازت دینا اس بات کی واضح علامت ہے کہ مودی حکومت مسلسل اپنی سفارتی قوت کھوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہندوستان کی اسٹریٹجک خود مختاری اور قومی اقتدارِ اعلیٰ شدید خطرے میں ہیں کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ایپسٹین فائلز اور اڈانی معاملے پر بلیک میل کیا جا رہا ہے۔‘‘ ان کے مطابق اس طرح کی زبان عام طور پر ان ممالک کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں، نہ کہ ایسے ملک کے لیے جو عالمی نظام میں ایک ذمہ دار اور مساوی شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر بیرونی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ کھڑگے کے مطابق حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے کہ کیا واقعی ہندوستان کو روسی تیل خریدنے کے لیے امریکہ سے اجازت لینا پڑ رہی ہے اور اگر ایسا ہے تو یہ ملک کی خود مختاری کے لیے تشویش ناک صورت حال ہے۔
کانگریس صدر نے اپنے بیان میں امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی مواقع پر ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اہم فیصلوں کا اعلان بیرونی قیادت کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ بندی یا تجارتی معاہدوں جیسے معاملات کا اعلان دوسرے ملک کے رہنما کریں اور ہندوستانی حکومت خاموش رہے تو اس سے ملک کی سفارتی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’آپریشن سندور کے دوران مودی جی کے دوست مسٹر ٹرمپ سب سے پہلے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں، ہم نہیں۔ وہ کم از کم 100 مرتبہ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے جنگ رکوائی مگر وزیر اعظم خاموش رہتے ہیں۔‘‘
کھڑگے نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت نے ایران سے تیل کی خریداری کے معاملے میں بھی دباؤ قبول کیا اور روسی تیل کی درآمدات میں بھی کمی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر توانائی، تجارت، ڈیٹا اور دیگر اہم شعبوں میں ہندوستان کے فیصلے بیرونی دباؤ کے تحت ہوں تو اس سے طویل مدتی قومی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے ہندوستان کی سابقہ خارجہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مختلف حکومتوں نے ہمیشہ خود مختار خارجہ پالیسی کو برقرار رکھا۔ ان کے مطابق جواہر لعل نہرو، اندرا گاندھی اور اٹل بہاری واجپائی کے ادوار میں بھی ہندوستان نے کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے سے گریز کیا تھا۔
ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ خود مختار فیصلوں کی روایت سے بھری ہوئی ہے اور یہ روایت برقرار رہنی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حالات میں عوام کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ حکومت کے وعدوں اور عملی پالیسیوں کے درمیان فرق پیدا ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے عوامی سطح پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔