ہری ونش تیسری بار راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین منتخب، کھڑگے کی مبارکباد، لوک سبھا میں ڈپٹی اسپیکر نہ ہونے پر اعتراض

راجیہ سبھا میں ہری ونش کے دوبارہ نائب چیئرمین منتخب ہونے پر کھڑگے نے مبارکباد دی، مگر ساتھ ہی لوک سبھا میں ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ سات برس سے خالی رہنے پر حکومت کو نشانہ بنایا

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے (ویڈیو گریب)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں ہری ونش کے مسلسل تیسری بار نائب چیئرمین منتخب ہونے پر کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ ملکارجن کھڑگے نے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے جہاں اس تقرری کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا، وہیں لوک سبھا میں ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کے طویل عرصے سے خالی رہنے پر سخت اعتراض بھی جتایا۔

ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ وہ نائب چیئرمین کے انتخاب پر ہری ونش کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اس باوقار عہدے کی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے نبھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک قابل ذکر موقع ہے کہ کسی نامزد رکن کو اس عہدے پر منتخب کیا گیا ہے، جو ایک نئی مثال قائم کرتا ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ ہری ونش اس منصب کے اہل ہیں۔

کھڑگے نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ نائب چیئرمین کے عہدے پر فوری انتخاب خوش آئند ہے اور اس سے ایوان کے کام کاج میں استحکام آتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ہری ونش کے ساتھ ایوان میں کام کرنے کا انہیں ایک بار پھر موقع ملا ہے، جو خوشی کی بات ہے۔


تاہم انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جہاں راجیہ سبھا میں نائب چیئرمین کا عہدہ بروقت پر کیا گیا ہے، وہیں لوک سبھا میں ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ سنہ 2019 سے خالی پڑا ہے، جو پارلیمانی روایت اور آئینی تقاضوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 93 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مطابق لوک سبھا میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں کا ہونا ضروری ہے، مگر حکومت نے اس معاملے میں سنجیدگی نہیں دکھائی۔

کھڑگے کے مطابق سات برس تک کسی اہم آئینی عہدے کو خالی رکھنا مناسب نہیں ہے اور یہ جمہوری نظام کے لیے اچھا اشارہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوک سبھا میں بھی راجیہ سبھا کی طرح بروقت تقرری کی جاتی تو یہ ایک بہتر روایت قائم ہوتی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پارلیمانی روایات کا احترام کرے اور آئینی ذمہ داریوں کو نظر انداز نہ کرے۔ ان کے اس بیان کو اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر بڑھتے دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پارلیمنٹ کے کام کاج اور ادارہ جاتی توازن پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔