کیرالہ ہائی کورٹ سبریمالا کے ’حلال گڑ‘ پر سخت، پرساد معاملہ پر ٹی ڈی بی کو جاری کیا حکم
عدالت نے کہا کہ مہاراشٹر کی کمپنی مغربی ایشیا کے کچھ ممالک میں بھی گڑ برآمد کرتی تھی، اسی لیے اس کی پیکیجنگ پر ’حلال‘ سرٹیفیکیشن کا نشان لگا ہوا تھا۔

کیرالہ ہائی کورٹ نے ’تراونکور دیواسوم بورڈ‘ (ٹی ڈی بی) کو ہدایت دی ہے کہ وہ ’پرسادم‘ تیار کرنے کے لیے خریدی جانے والی اشیا کے معیار، مقررہ اصولوں اور سبریمالا مندر سے وابستہ مذہبی روایات اور ضروریات کا خیال رکھیں۔ جسٹس راجا وجے راگھون وی اور کے وی جے کمار کی بنچ نے 2021 میں دائر کی گئی ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ ہدایت جاری کی۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سبریمالا میں بھگوان ایّپا مندر میں تقسیم کے لیے ’ارونا‘ اور ’اپّم‘ تیار کرنے میں ’حلال گڑ‘ استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کے استعمال کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ’ارونا‘ گڑ اور چاول سے تیار کی جانے والی پائسم ہے، جبکہ ’اپّم‘ چاول اور گڑ سے تیار ہونے والا ایک میٹھا پکوان ہے۔ یہ دونوں ایّپا مندر میں عقیدت مندوں کو دیے جانے والے ’پرسادم‘ ہیں۔
عرضی گزار ایس جے آر کمار نے خاص طور پر یہ دلیل دی تھی کہ ’حلال‘ سرٹیفیکیشن کا مطلب ہے کہ گڑ کسی دوسرے برادری کے مذہبی عقائد اور رسومات کے مطابق تیار کیا گیا تھا۔ اس وجہ سے یہ بھگوان ایّپا کو چڑھانے کے لیے ’ساتوک‘ یا پاکیزہ نہیں ہوتا ہے، جسے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ بنچ نے کہا کہ ٹی ڈی بی نے ای-ٹینڈر کے ذریعے گڑ خریدا تھا۔ سب سے زیادہ بولی لگانے والی کمپنی کو 1996034 کلوگرام گڑ پاؤڈر سپلائی کرنا تھا۔ عدالت نے کہا کہ مہاراشٹر کی کمپنی مغربی ایشیا کے کچھ ممالک میں بھی گڑ برآمد کرتی تھی، اسی لیے اس کی پیکیجنگ پر ’حلال‘ سرٹیفیکیشن کا نشان لگا ہوا تھا۔
اس کے ساتھ ہی کیرالہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو سبریمالا مندر کو پانی سپلائی کرنے والے بسٹر اسٹیشنوں کی بناوٹ اور سیکورٹی کی فوری جانچ کرانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ آنے والے تیرتھ یاترا سیزن کے دوران مندر میں بغیر رکاوٹ اور مناسب پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ان اسٹیشنوں کا فعال حالت میں رہنا ضروری ہے۔ جسٹس راجا وجے راگھون وی اور کے وی جے کمار کی بنچ نے یہ بھی کہا کہ جانچ کی بنیاد پر ضروری بنیادی مرمت، مضبوطی کے اقدامات اور دیگر ضروری کاموں کی نشاندہی کی جائے اور انہیں جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
