کیرالہ ہائی کورٹ کا الیکشن کمیشن سے سوال، ’کیا پوسٹل بیلٹ نظام میں بہتری ممکن ہے؟‘
کیرالہ ہائی کورٹ نے پوسٹل بیلٹ میں خامیوں پر انتخابی کمیشن سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے پوچھا کہ ووٹ نہ ڈال پانے والے افراد کے لیے سہولت بڑھانے کے امکانات کیا ہیں، معاملے کی اگلی سماعت منگل کو ہوگی

کوچی: کیرالہ ہائی کورٹ نے پوسٹل بیلٹ میں سامنے آنے والی خامیوں پر سخت نوٹس لیتے ہوئے جمعہ کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ وہ منگل تک وضاحت پیش کرے کہ حالیہ انتخابات میں ووٹ نہ ڈال پانے والے افراد کے لیے اضافی سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں یا نہیں۔ عدالت کے اس قدم کو انتخابی عمل کی شفافیت اور عوامی رسائی کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
عدالت نے ممکنہ طور پر ووٹ کے حق سے محرومی کے خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے کہا کہ وہ اس بات پر اپنا واضح اور تفصیلی موقف پیش کرے کہ پوسٹل بیلٹ کے نظام کو کس حد تک وسعت دی جا سکتی ہے یا اسے مزید آسان بنایا جا سکتا ہے، تاکہ وہ افراد بھی اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر سکیں جو کسی وجہ سے اس موقع سے محروم رہ گئے۔
بنچ نے اس معاملے کی اگلی سماعت منگل کے لیے مقرر کی ہے اور کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس دوران تمام متعلقہ پہلوؤں پر غور کر کے جواب داخل کرے۔ عدالت کی یہ مداخلت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 9 اپریل کو ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے اور 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق سخت مقابلے والے حلقوں میں پوسٹل بیلٹ فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں، اس لیے اس معاملے کی حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
یہ معاملہ ایک ریاستی سرکاری ملازم کی عرضی سے شروع ہوا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تمام ضروری کارروائی مکمل کرنے کے باوجود اسے پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا موقع نہیں دیا گیا، جو کہ اس کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہے۔ عرضی میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ انتخابی ڈیوٹی پر تعینات ملازمین کو ووٹ ڈالنے کے لیے مؤثر اور بروقت سہولت فراہم کرنا ریاست اور انتخابی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
اس سے قبل 8 اپریل کو انتخابی کمیشن نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ پولنگ عملے کو ڈیوٹی پر روانہ ہونے سے پہلے پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ یقین دہانی کیرالہ این جی او یونین کی ایک عرضی کے بعد سامنے آئی تھی، جس میں انتخابی ڈیوٹی پر تعینات سرکاری ملازمین کو پیش آنے والی مشکلات کو اجاگر کیا گیا تھا۔
یونین کے مطابق "کنڈکٹ آف الیکشن رولز، 1961" کے تحت ایسے ملازمین کو پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ دینے کا حق حاصل ہے، لیکن عملی سطح پر کئی رکاوٹیں سامنے آئیں۔ بیلٹ پیپر کی تقسیم میں تاخیر ایک بڑی وجہ بنی، جس کے باعث متعدد ملازمین اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ مزید برآں، یکم اپریل سے 8 اپریل تک دیا گیا محدود وقت بھی مسائل میں اضافے کا سبب بنا، کیونکہ اسی دوران انتخابی انتظامات کی مصروفیات عروج پر تھیں۔
ذرائع کے مطابق کئی ملازمین کو 6 اپریل تک بھی بیلٹ پیپر موصول نہیں ہوئے، جبکہ 8 اپریل کا زیادہ تر وقت انتخابی مشینری اور دیگر سامان حاصل کرنے میں صرف ہو گیا، جس سے ووٹنگ کے لیے مناسب وقت نہیں بچ سکا۔ ایسے حالات میں عدالت کی مداخلت کو نہ صرف متاثرہ ملازمین کے لیے اہم پیش رفت مانا جا رہا ہے بلکہ اسے انتخابی نظام میں اصلاحات کی ایک ممکنہ شروعات بھی قرار دیا جا رہا ہے۔