لکشدیپ انتظامیہ کی کارروائی کے خلاف کیرالہ اسمبلی میں قرارداد منظور

کیرالہ کے وزیر اعلی پینارائی وجین نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ لکشدیپ جزائر میں دیسی طرز زندگی اور ماحولیاتی نظام کو تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کیرالہ اسمبلی / تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @ANI
کیرالہ اسمبلی / تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @ANI
user

یو این آئی

ترواننت پورم: کیرالہ اسمبلی نے لکشدیپ انتظامیہ کی حالیہ کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وہاں کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پیر کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کیا۔ وزیر اعلی پینارائی وجین نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ لکشدیپ جزائر میں دیسی طرز زندگی اور ماحولیاتی نظام کو تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پچھلے دروازے سے ’بھگوا ایجنڈا‘ نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایجنڈے کے تحت ناریل کے درختوں کو بھی بھگوا رنگ سے رنگ دیئے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لکشدیپ کے عوام کے مفادات کو کارپوریٹ کمپنیوں کے لئے ترقی کے نام پر سمجھوتہ کیا گیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر وی ڈی ستیشن نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی اور وہاں کے ایڈمنسٹریٹر کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔


یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرکز کی ان پالیسیوں کے خلاف پینارائی وجین حکومت کا یہ پہلا قرارداد ہے، جو 6 اپریل کو کیرالہ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد مسلسل دوسری بار اقتدار میں آئی تھی۔ اس سے قبل، ایوان نے کیرالہ کے سابق گورنر آر ایل بھاٹیہ، وزیر کے۔ آر گوری اما، شری آر. بالا کرشنا پلئی، سابق وزیر اور کیرالہ کانگریس کے رہنما کے جے چاکو، سابق ڈپٹی اسپیکر اسمبلی سی اے کورین، کے ایم۔ ہمسکنجو اور بی راگھوان کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔