امریکہ کے ایک اسکول میں اسٹیل کی پانی کی بوتلوں پر پابندی، طلبہ کی حفاظت کے لیے نیا فیصلہ
امریکہ کے ہارڈن کاؤنٹی اسکولوں میں طلبہ کی حفاظت کے پیش نظر اسٹیل اور شیشے کی پانی کی بوتلوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ فیصلہ 6 اگست سے نافذ ہوگا، جبکہ صرف پلاسٹک کی بوتلیں لانے کی اجازت ہوگی

واشنگٹن: امریکہ کی ریاست کینٹکی کے ہارڈن کاؤنٹی اسکول ڈسٹرکٹ نے طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے نئے تعلیمی سال سے اسکولوں اور اسکول بسوں میں اسٹیل، ایلومینیم اور شیشے کی پانی کی بوتلیں لانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اب طلبہ صرف پلاسٹک کی پانی کی بوتلیں ہی اسکول لا سکیں گے۔
اسکول انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ اچانک نہیں کیا گیا بلکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پیش آنے والے متعدد واقعات کے بعد اسے ضروری سمجھا گیا۔ حکام کے مطابق کئی ایسے معاملات سامنے آئے جن میں طلبہ نے بھاری اسٹیل کی پانی کی بوتلوں کو دوسرے طلبہ پر حملے کے لیے استعمال کیا، جس کے نتیجے میں بعض بچوں کے سر، چہرے اور جسم پر شدید چوٹیں آئیں، جبکہ کچھ کو اسپتال میں بھی داخل کرانا پڑا۔ متعدد متاثرہ طلبہ کو سر پر شدید ضرب لگنے کے باعث دماغی چوٹ (کنکشن) کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پانی سے بھری ہوئی اسٹیل کی بوتل کا وزن کافی زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت چیز کی طرح خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہی خدشات کے پیش نظر اسکول ڈسٹرکٹ نے سیکیورٹی ماہرین اور متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ممکنہ خطرات کو پہلے ہی روکنا بہتر ہے تاکہ اسکولوں میں تشدد کے واقعات میں کمی لائی جا سکے۔
یہ نیا ضابطہ 6 اگست سے شروع ہونے والے تعلیمی سیشن کے ساتھ نافذ ہوگا۔ تاہم ابتدائی دنوں میں طلبہ اور والدین کو نئے اصولوں سے آگاہ کرنے کے لیے بیداری مہم بھی چلائی جائے گی۔ اگر کوئی طالب علم غلطی سے اسٹیل یا شیشے کی بوتل لے آئے تو ابتدا میں اس کے خلاف کارروائی کے بجائے صرف تنبیہ کی جائے گی اور اسے پلاسٹک کی بوتل استعمال کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔
اسکول انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پابندی صرف معمول کے تدریسی اوقات اور اسکول بسوں تک محدود ہوگی۔ اسکول کے بعد ہونے والی کھیلوں کی سرگرمیوں، پریکٹس سیشنز اور دیگر غیر نصابی پروگراموں میں کھلاڑی دھات کی پانی کی بوتلیں استعمال کر سکیں گے، کیونکہ ان مواقع پر ان کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اور نگرانی کا نظام بھی مختلف ہوتا ہے۔
نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے پر والدین کی رائے منقسم ہے۔ بعض والدین کا کہنا ہے کہ چند شرارتی طلبہ کی وجہ سے تمام بچوں پر پابندی عائد کرنا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق اسٹیل کی بوتلیں ماحول دوست، پائیدار اور طویل عرصے تک استعمال کے قابل ہوتی ہیں، جبکہ پلاسٹک کی بوتلوں کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگی اور پلاسٹک کے فضلے میں اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب کئی والدین اور اساتذہ نے اسکول انتظامیہ کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر روزمرہ استعمال کی کوئی چیز تشدد کا ذریعہ بن سکتی ہے تو طلبہ کی حفاظت کے لیے اس پر پابندی عائد کرنا ایک مناسب اور ذمہ دارانہ قدم ہے۔ ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ اگر یہ اقدام مؤثر ثابت ہوا تو امریکہ کے دیگر اسکول ڈسٹرکٹ بھی اسی نوعیت کے حفاظتی ضوابط نافذ کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
