’کشمیر کو ریاستی درجہ چاہئے، کیا وائٹ ہاؤس جا کر مانگیں؟‘ جنتر منتر جانے پر پابندی سے عمر عبداللہ ہوئے برہم
وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ’’ریاست کا درجہ دینا جموں و کشمیر کے لوگوں پر کوئی احسان نہیں ہے۔ یہ وزیر اعظم مودی کا لوگوں سے کیا گیا وعدہ ہے۔‘‘

وزیر اعلی عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ نہ دیے جانے پر ایک بار پھر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ اگر ان کی پارٹی کو دہلی کے جنتر منتر پر ریاست کا درجہ واپس دینے کے لیے احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں ملتی ہے، تو کیا انہیں وائٹ ہاؤس جا کر امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنی چاہئے؟ یہ بیان انھوں نے جموں میں ایک بڑی ریلی ’چلو دلی‘ کو خطاب کرتے ہوئے دیا۔ اس دوران وزیر اعلی عمر عبداللہ نے عزم ظاہر کیا کہ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دلانے کی اپنی لڑائی قومی راجدھانی دہلی تک لے جائے گی۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ بار بار یقین دہانی کرانے کے باوجود، پارٹی اس مطالبے کو ایک سیاسی مدعا مان رہی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ آج جموں کے مختلف حصوں سے ہماری ہزاروں مائیں، بہنیں اور نوجوان اراکین اپنی آواز اٹھانے اور مرکز کو یہ پیغام دینے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں، کیوں کہ اب اور انتظار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ’’ریاست کا درجہ دینا جموں و کشمیر کے لوگوں پر کوئی احسان نہیں ہے۔ یہ وزیر اعظم مودی کا لوگوں سے کیا گیا وعدہ ہے۔‘‘ بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ ’’ہمارے صبر کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔ بی جے پی کے طعنے اور الزامات کے بعد ہم نے سڑکوں پر اترنے اور بات چیت سے جو حاصل نہیں ہو سکا، اسے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’اگر جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے تو بی جے پی کو صاف صاف بتانا چاہئے کہ ریاست کا درجہ حاصل کرنے کا مطالبہ کہاں اٹھانا چاہئے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہاں سے ٹھیک ایک گھنٹے کے فاصلے پر، کٹرا میں ’وندے بھارت‘ ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائی گئی اور وزیر اعظم نے تقریر بھی کی۔ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے متعلق تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ کوئی معمولی وعدہ نہیں ہے، یہ مودی کا وعدہ ہے۔‘‘ وزیر اعلی عمرعبداللہ نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے سے قبل یہاں اقتدار حاصل کرنے کا انتظار کر رہی ہے؟ اگر ہاں، تو انہیں ایک عوامی اجلاس کرنا چاہئے اور لوگوں کو کھل کر بتانا چاہئے۔
