کرتار پور گلیارے کا 90 فیصد کام مکمل

پاکستان میں واقع سکھوں کے مشہور مذہبی مقام گردوارہ دربار صاحب کے لئے تیار کئے جارہے کرتاپور گلیارے کا 90 فیصد کام زیرو لائن سے گردوارہ تک مکمل ہوچکا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

لاہور: پاکستان میں واقع سکھوں کے مشہور مذہبی مقام گردوارہ دربار صاحب کے لئے تیار کئے جارہے کرتاپور گلیارے کا 90 فیصد کام زیرو لائن سے گردوارہ تک مکمل ہوچکا ہے۔ ہندوستان کی طرف سے عقیدتمندوں کا پہلا جتھہ پاکستان 9 نومبر کو پہنچے گا۔ اس جتھے میں حالانکہ کتنے زائرین ہوں گے ان کی تعداد کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

پاکستان کی طرف سے گلیارے کے تعمیراتی کام کا افتتاح وزیراعظم عمران خان اور فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ کے نومبر میں کئے جانے کے امکانات ہیں۔ اس گلیارے کے تحت اہم سڑکیں، پل، عمارتیں اور دیگر کام 90 فیصد تک مکمل کیا جاچکا ہے۔ سکھوں کے پہلے گروبابا گرونانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 برس یہاں گزرے تھے۔ یہ گردوارہ ہندوستان کی سرحد سے محض چار کلومیٹر دور پاکستان میں واقع ہے۔ گردوارہ کا دیدار ہندوستانی سرحد کی طرف سے ہوجاتے ہیں اور روزنانہ بڑی تعداد میں سکھ عقیدت مند اکھٹے ہوکر دور سے درشن کرتے ہیں۔

کرتارپور کراسنگ ہندوستان کے پنجاب میں ڈیرا بابا نانک اور پاکستان میں گردوارہ دربار صاحب کو جوڑے گا۔ اس گلیارے کے ایک بار شروع ہوجانے کے بعد ہندوستان سے سکھ عقیدت مند یہاں بغیر ویزہ کے آجاسکیں گے۔ یہ دونوں ممالک کی 1947 میں آزادی کے بعد پہلا ویزہ فری گلیارہ ہوگا۔

دی ایکسپریس ٹریبون کے مطابق اس گلیارے کی تعمیر کی تجویز دو عشرہ پہلے آئی تھی مگر پاکستان میں عمران خان حکومت بننے کے بعد اس نے عملی جامہ پہنایا جب پاکستان نے گلیارے کھولنے کے منصوبہ کا اعلان کیا۔

گزشتہ سال نومبر میں وزیراعظم عمران خان نے گلیارے کی تعمیری کاموں کا بنیاد رکھی۔ کرتارپور گلیارے چار کلومیٹر طویل بنے گا۔ بنیاد رکھنے کی تقریب میں عمران خان کے خاص دوست اور سابق ہندوستانی کھلاڑی نوجوت سنگھ سدھو بھی شامل ہونے پاکستان آئے تھے۔

پلوامہ حملے کےبعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی تناؤ عروج پر تھا اور 26 فروری کو ہندوستان کی طرف سے بالاکوٹ کیمپ پر ائر اسٹرائک کے بعد صورت حال اور سنگین ہوگئی۔ اس کے بعد گلیارے کے سلسلے میں کچھ تذبذب کی صورت حال پیدا ہوگئی لیکن بعد میں گلیارے کے وقت سے بن کر تیار رہنے کی سمت میں قدم آگے بڑھے۔ پاکستان کو امید ہے کہ بابا گرونانک دیو کے اس سال نومبر میں 550ویں سالگرہ کے موقع پر یہ گلیارہ سکھ عقیدتمندوں کے لئے کھل جائے گا۔