کرناٹک میں میڈیکل و انجینئرنگ کے لیے دیہی طلبا کو ملے گا 7.5 فیصد ریزرویشن، حکومت کا اعلان

ریزرویشن کا دائرہ پروفیشنل ہائیر ایجوکیشن تک رکھا گیا ہے۔ اس میں میڈیکل و انجینئرنگ جیسے کورس شامل ہوں گے۔ اس قدم کو دیہی سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے لیے مواقع بڑھانے کی کوشش مانا جا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>کرناٹک کےوزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

کرناٹک حکومت نے دیہی علاقوں کے سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے لیے پیشہ ورانہ اور اعلیٰ تعلیم میں 7.5 فیصد ریزرویشن دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اعلان کیا تھا کہ یہ ریزرویشن میڈیکل اور انجینئرنگ سمیت پیشہ ورانہ کورسز میں نافذ کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قدم کا مقصد دیہی سرکاری اسکولوں کے طلبا کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع کو بڑھانا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ 7.5 فیصد ریزرویشن کے ساتھ کرناٹک حکومت دیہی طلبا کے لیے ’سہائے-ہستا، ہوسا-ہستا‘ اسکیم بھی نافذ کرے گی۔ اس کا مقصد دیہی علاقوں کے طلبا کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ حکومت کے مطابق ریزرویشن اور اس اسکیم کے ذریعہ دیہی سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے لیے پیشہ ورانہ اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع کو مضبوط کیا جائے گا۔ ریزرویشن کا دائرہ پیشہ ورانہ اعلیٰ تعلیم تک رکھا گیا ہے۔ اس میں میڈیکل اور انجینئرنگ جیسے کورس شامل ہوں گے۔ دیہی سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے لیے ان کورسز میں داخلہ کے مواقع بڑھانے کی سمت میں اسے ایک اہم اعلان قرار دیا جا رہا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ نے تعلیم کے شعبہ میں ٹیکنالوجی سے متعلق کئی دیگر اعلانات بھی کیے۔ حکومت ’اے آئی اکشرا‘ مہم اور ’کوڈنگ گروکل‘ پروگرام شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کے تحت اسکولوں میں چھٹی جماعت سے اے آئی کی تعلیم شروع کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ اس قدم کے ذریعہ طلبا کو اے آئی اور کوڈنگ جیسی نئی ٹیکنالوجی سے متعارف کرانے پر زور دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کرناٹک ایک نئے تکنیکی دور میں داخل ہو رہا ہے اور طلبا کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق تیار کرنا ضروری ہے۔ وہیں کرناٹک حکومت نے بنگلورو میں ہندوستان کی پہلی ریاستی حکومت کی ملکیت والی اے آئی یونیورسٹی قائم کرنے کا منصوبہ بھی بتایا ہے۔ یہ قدم تعلیم، ٹیکنالوجی اور روزگار کے شعبہ میں نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے حکومت کے منصوبے کا حصہ ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ ریاست کے نظامِ امتحان میں بہتری کے لیے بھی حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ موجودہ نظامِ امتحان کا جائزہ لینے اور اس میں ضروری تبدیلیوں کے لیے تجاویز دینے کے مقصد سے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق یہ کمیٹی تقریباً 2 ماہ میں اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر سکتی ہے۔ رپورٹ کی بنیاد پر نظامِ امتحان میں ضروری تبدیلیاں کی جائیں گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔