کرناٹک: بیلاری میں 7561 ووٹروں کے نام حذف کرنے کی کوشش، بی جے پی کے بی ایل اے سمیت 4 کے خلاف مقدمہ
کرناٹک کے بیلاری میں 7561 ووٹروں کے نام حذف کرنے کی کوشش پر بی جے پی کے بی ایل اے سمیت 4 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ 98.08 فیصد درخواستیں اقلیتی ووٹروں سے متعلق تھیں

بیلاری: کرناٹک کے بیلاری میں ووٹر فہرست سے 7561 ووٹروں کے نام حذف کرانے کی کوشش کے معاملے میں بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹ-1 (بی ایل اے-1) سمیت چار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان پر ووٹر فہرست سے نام غیر قانونی طریقے سے ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق، بیلاری سٹی کارپوریشن کے کونسلر اور بی جے پی کے بی ایل اے-1 سرینواس موٹکر نے بیلاری سٹی اسمبلی حلقے کی ووٹر فہرست سے 7561 ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے درخواستیں جمع کرائی تھیں۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان درخواستوں میں شامل 98.08 فیصد ووٹر اقلیتی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔
ایف آئی آر میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ موٹکر نے فارم-7 کے ذریعے یہ درخواستیں جمع کرائیں، حالانکہ ایس آئی آر کے عمل کے تحت ایک بی ایل اے کی جانب سے جمع کرائی جانے والی درخواستوں کی تعداد پر پابندی عائد ہے۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا ہے کہ اس طریقے سے بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام ووٹر فہرست سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔
اس معاملے میں بیلاری سٹی کارپوریشن کے اسسٹنٹ کمشنر نندیش، بوتھ لیول افسر (بی ایل او) سمالتا اور کیس ورکر شرنبسوا کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ملی بھگت کرتے ہوئے درخواستیں جمع کرانے اور ان پر کارروائی میں مدد کی۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے انتخابی حکام کو غلط معلومات فراہم کیں، تاکہ ووٹر فہرست سے بڑی تعداد میں نام حذف کرائے جا سکیں۔ الزام ہے کہ اس کوشش کا مقصد ووٹروں کے حق رائے دہی کو متاثر کرنا اور مختلف برادریوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنا تھا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کرناٹک میں ایس آئی آر کے ذریعے ووٹر فہرستوں میں نام حذف کیے جانے کے الزامات پر سیاسی تنازع جاری ہے۔ اس سے ایک روز قبل بیلگاوی میں 198 مسلم ووٹروں کے نام ووٹر فہرست سے حذف کرانے کی کوشش کے معاملے میں بی جے پی لیڈر ڈاکٹر روی پاٹل کو مشروط ضمانت دی گئی تھی۔
بیلگاوی کی دوسری ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ڈاکٹر روی پاٹل کو گرفتاری سے مشروط راحت دی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایس آئی آر کے ذریعے 198 مسلم ووٹروں کے نام ووٹر فہرست سے حذف کرانے کی کوشش کی۔ اس معاملے میں ڈاکٹر روی پاٹل سمیت 20 سے 25 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
کرناٹک میں دونوں معاملات نے ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرستوں سے نام حذف کرنے کے طریقہ کار، انتخابی عمل کی شفافیت اور ووٹروں کے حق رائے دہی کے تحفظ پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
