کرناٹک: ایم ایل سی انتخاب میں کراس ووٹنگ کے بعد بی جے پی اپنے اراکین اسمبلی کو مندر میں کھلائے گی قسم

کرناٹک ایم ایل سی انتخابات میں کانگریس نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 7 میں سے 5 سیٹوں پر جیت درج کی ہے جبکہ بی جے پی صرف 2 سیٹیں ہی اپنے نام کرسکی اور اس کی اتحادی جے ڈی ایس کھاتہ بھی نہیں کھول پائی۔

بی جے پی / علامتی تصویر
i

کرناٹک لیجسلیٹیو کونسل (ایم ایل سی) انتخابات میں اپنی ہی پارٹی کے خلاف کراس ووٹنگ کی خفگی کا سامنا کرنے والی بی جے پی اب ممبران اسمبلی کے خلاف کارروائی کرنے کے موڈ میں نظر آرہی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ کراس ووٹنگ کرنے والے ممبران اسمبلی کی شناخت کے لیے بی جے پی اپنے تمام ایم ایل ایز کو مشہور مندر والے شہر لے جائے گی، جہاں انہیں (ممبران اسمبلی) بھگوان کے سامنے قسم کھانے کے لیے کہا جائے گا۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق پارٹی کے اندر سیاسی نقب زنی کے بعد بی جے پی قیادت نے باغی ایم ایل اے کی شناخت کے لیے اس سخت اور مذہبی طریقہ اختیار کیا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کو یہاں کے تاریخی مندر میں لے جایا جائے گا جہاں ان سے دیوتا بھگوان کے سامنے قسم کھانے کو کہا جائے گا کہ انہوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا یا دوسری پارٹی کے لیے کراس ووٹنگ کی۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان بات چیت کے بعد یہ طے ہوا ہے کہ آئندہ 4-5 دنوں میں اس پورے عمل کو مکمل کرلیا جائے گا۔ انتخابی نتائج کے بعد پیدا ہوئے اس داخلی انتشار پر قابو پانے اور پارٹی میں اتحاد کو دوبارہ آزمانے کے لیے آج ہی اس اہم پروگرام کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق جس مذہبی شہر کو بی جے پی نے اپنے ایم ایل ایز کو قسم کھلانے کے لیے منتخب کیا ہے، وہ کرناٹک کے جنوبی کنڑ ضلع میں دریائے نیتراوتی کے کنارے واقع مشہور اور تاریخی مندر کا شہر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ جگہ 800 سال پرانے مذہبی مقام مندر کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہ شیو مندر مذہبی ہم آہنگی کی ایک غیر معمولی علامت کہا جاتا ہے۔


بتا دیں کہ حال ہی میں ہونے والے کرناٹک قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے انتخابات میں حکمراں کانگریس پارٹی نے زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے 7 میں سے 5 سیٹوں پر جیت درج کی ہے جبکہ اپوزیشن بی جے پی صرف 2 سیٹیں ہی اپنے نام کرسکی  اور اس کی اتحادی جنتا دل سیکولر (جے ڈی ایس) اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول سکی۔ خبر کے مطابق دونوں اپوزیشن جماعتوں کے کئی ممبران اسمبلی نے پارٹی لائن سے الگ جا کر کانگریس امیدواروں کے حق میں کراس ووٹنگ کی جس کی وجہ سے یہ غیر متوقع انتخابی نتیجہ سامنے آیا ہے۔