جو کچھ ہو رَہا ہے، ایسا ہی ہوتا رہا تو منہدم ہو جائیں گے آزادی کے سبھی ستون: سبل

چدمبرم کی سی بی آئی حراست ختم ہونے کے بعد انھیں دہلی کی خصوصی سی بی آئی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے زور دیا تھا کہ چدمبرم کو عدالتی حراست میں بھیجا جائے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

قومی آوازبیورو

آئی این ایکس میڈیا کیس میں کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجے جانے کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر اور وکیل کپل سبل نے کئی اہم سوالات قائم کیے ہیں۔ ملک کی موجودہ حالات کو لے کر انھوں نے ٹوئٹ کر سوال پوچھا ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’ہماری بنیادی آزادی کی حفاظت کون کرے گا؟ حکومت؟ سی بی آئی؟ ای ڈی؟ یا انکم ٹیکس افسر؟ یا پھر عدالتیں؟ اگر عدالتیں مان لیں گی کہ ای ڈی اور سی بی آئی درست بول رہی ہیں تو ایک دن بھگوتی سے وینکٹ چلیا دور میں تعمیر آزادی کے ستون منہدم ہو جائیں گے۔ وہ دن دور نہیں ہے۔‘‘


جمعرات کو پی چدمبرم کی سی بی آئی حراست ختم ہو رہی تھی جس کے بعد انھیں دہلی کی خصوصی سی بی آئی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے اس بات پر زور دیا کہ چدمبرم کو عدالتی حراست میں بھیجا جائے۔ ان کی یہ دلیلیں تھیں کہ چدمبرم کیس کو متاثر کر سکتے ہیں۔

سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کی دلیلوں کی سخت مخالفت کرتے ہوئے عدالت میں پیش چدمبرم کے وکیل کپل سبل نے کہا کہ ’’میرے (پی چدمبرم) خلاف کچھ نہیں ملا ہے۔ اگر میں طاقتور شخص ہوں اور گواہوں کو متاثر کر سکتا ہوں تو انھیں (سی بی آئی کو) میرے خلاف ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے یا گواہوں کو متاثر کرنے کے ثبوت پیش کرنے چاہئیں۔ امکان اور اندیشہ کی وجہ سے مجھے عدالتی حراست میں جانے کے لیے نہیں کہا جا سکتا ہے۔‘‘


سبل کی دلیل پر سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ کیا آپ ضمانت کو لے کر بحث کر رہے ہیں؟ اس پر سبل نے کہا کہ ’’میں اس بنیاد پر بحث کر رہا ہوں کہ آپ کن ایشوز پر عدالتی حراست کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ یہ بنیادی طور پر بے عزت کرنے والا معاملہ ہے۔ اس کا ثبوت پیش کیا جانا چاہیے۔‘‘ عدالت میں بحث کرتے ہوئے سبل نے کہا کہ اگر سی بی آئی پوچھ تاچھ کر چکی ہے تو پھر چدمبرم کو عدالتی حراست میں کیوں بھیجا جا رہا ہے؟ انھوں نے کہا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ سی بی آئی حراست ختم ہونے کے بعد عدالتی حراست میں بھیجنا ضروری ہے۔

سبل نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ سی بی آئی پوچھ تاچھ کر چکی ہے، اب اگر ای ڈی حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کرنا چاہتی ہے تو کر سکتی ہے۔ چدمبرم ای ڈی کی حراست میں جانے کے لیے تیار ہیں۔ ان دلیلوں کو سننے کے بعد بھی سی بی آئی کے مطالبہ کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے چدمبرم کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ انہی باتوں کو لے کر سبل نے اپنے ٹوئٹ میں سوال کھڑے کیے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 06 Sep 2019, 12:10 PM