ایل پی جی کی قلت کے سبب کانپور کی ’بدنام قلفی‘ غائب، گرمی میں ٹھنڈی چُسکی نہ ملنے سے لوگ مایوس

سندیپ نے کہا کہ سلنڈر کی عدم دستیابی کی وجہ سے گزشتہ 10 دنوں سے قلفی تیارنہیں ہوئی ہے۔ شہر کے تمام 7 آؤٹ لیٹ قلفی سے محروم ہیں۔ چونکہ قلفی کو بہت زیادہ گیس کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے پیداوار روکنی پڑی۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اترپردیش کی اقتصادی راجدھانی کانپور ہمیشہ سے صنعتی شہر کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب یہ شہر’ مشرق کا مانچسٹر‘ بھی کہا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ حالات بدلے لیکن اس شہر کی تاریخ میں کئی نئے باب شامل ہوتے گئے۔ اسی میں ’ٹھگو کے لڈو‘ اور ’بدنام قلفی‘ کی بھی انٹری ہوئی جو آگے چل کرکافی مشہور ہوئی۔ موسم گرما میں راحت دینے والی وہی ’بدنام قلفی‘ آج کل منظرعام سےغائب ہے۔ اس کی بڑی وجہ ایل پی جی کی قلت ہے۔ کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے گزشتہ 10 دنوں سے ’بدنام قلفی‘ نہیں بنی جس کی وجہ سے گرمی میں ٹھنڈی چُسکی لینے والے لوگ کافی مایوس ہیں۔

بتادیں کہ ’ٹھگو کے لڈو‘ کے بانی نے ہی ’بدنام قلفی‘ کی شروعات کی تھی۔ اس منفرد نام کے پیچھے کی وجہ اس کا ذائقہ تھا۔ بدنام قلفی لوگوں کو اتنی پسند آئی کہ چند روز میں ہی اس نے اپنے نام اور کوالٹی کی بنیاد پر ایک الگ مقام حاصل کرلیا۔ ایک طرح سے یہ اپنے اچھے ذائقے کی وجہ سے ’بدنام‘ ہو گئی۔ اس موسم گرما میں بدنام قلفی لوگوں کے گھروں تک نہیں پہنچ پارہی ہے کیونکہ اس شہر میں ایل پی جی سلنڈروں کی قلت ہے۔


شہر کے نواب گنج آؤٹ لیٹ سنبھالنے والے سندیپ بتاتے ہیں کہ کمرشل سلنڈروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے گزشتہ 10 دنوں سے قلفی تیار نہیں ہوئی ہے۔ شہر کی تمام 7 آؤٹ لیٹ قلفی سے محروم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ قلفی کو بہت زیادہ گیس کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے پیداوار روکنی پڑی۔ سندیپ کے مطابق ’بدنام قلفی‘ نہیں تیار ہونے سے ہر روز بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ اسٹاف کو بیٹھنے کے پیسے دینے پڑرہے ہیں۔ قلفی کی فروخت صفر ہو گئی ہے۔ اس قلفی کے چاہنے والے اتنے ہیں کہ ہر روز ہزاروں لوگ مایوس ہو کر واپس لوٹ جارہے ہیں۔ وی آئی پی روڈ کے رہائشی سی اے پرشانت جوہری بتاتے ہیں کہ گرمی کے موسم میں ہر تیسرے دن ان کے گھر بدنام قلفی آتی تھی لیکن اس بار یہ آؤٹ لیٹ پر دستیاب نہیں ہے۔

اس سلسلے میں کانپور کے ڈی ایس او پرشانت جوہری کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ سلنڈر نہ ملنا ہے جس کی وجہ قلفی نہیں بن رہی ہے۔ ہمارے گھر والے بھی قلفی کا ذائقہ نہ ملنے کی وجے سے بہت مایوس ہیں۔ آریہ نگر کے رہائشی کیشو کا کہنا ہے کہ بدنام قلفی کے بغیر زندگی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ سٹی ڈی ایس او راکیش کمار کا کہنا ہے کہ فی الحال کمرشل سے زیادہ گھریلو سلنڈر پر توجہ دی جارہی ہے تاکہ عام لوگوں کو اپنے کچن میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔