این ایس یو آئی کارکنوں کو پریشان کر رہی پولیس، اے بی وی پی کوئی کارروائی نہیں: کنہیا کمار
ڈوسو انتخابات کے دوران کنہیا کمار نے دہلی پولیس پر این ایس یو آئی کارکنوں کو حراساں کرنے کا الزام لگایا۔ کہا کہ اے بی وی پی کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی اور طلبہ کے حقوق کے لیے این ایس یو آئی ضروری ہے

نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (ڈوسو) انتخابات کے درمیان نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے قومی انچارج ڈاکٹر کنہیا کمار نے دہلی پولیس پر این ایس یو آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کو پریشان کرنے اور حراست میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والی اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔
دہلی کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کنہیا کمار نے کہا کہ اے بی وی پی کو ڈوسو انتخابات میں کامیاب کرانے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنی پوری سرکاری مشینری میدان میں اتار دی ہے۔
کنہیا کمار نے دہلی یونیورسٹی کے طلبہ سے این ایس یو آئی کی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اے بی وی پی اپنی ہی حکومت کی ناکامیوں کے خلاف آواز اٹھانے میں ناکام ہے۔ ان کے مطابق ایسے وقت میں طلبہ کے حقوق اور ان کے مسائل کے لیے جدوجہد کرنے والی مضبوط طلبہ تنظیم کی ضرورت ہے۔
جے این یو طلبہ یونین کے سابق صدر کنہیا کمار نے کہا کہ ڈوسو انتخابات کے دوران این ایس یو آئی کے کارکنوں، رہنماؤں اور امیدواروں کو ذاتی حملوں اور ان کی شناخت سے متعلق معاملات میں نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کی نظریے، شناخت یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر تشدد یا امتیاز کا نشانہ بنانا تشویش ناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ این ایس یو آئی گاندھی کے نظریات اور آئین پر یقین رکھتی ہے اور بی جے پی کی غنڈہ گردی سے خوف زدہ ہونے والی نہیں ہے۔ کنہیا کمار نے مرکز، دہلی حکومت اور میونسپل کارپوریشن، تینوں سطحوں پر بی جے پی کے اقتدار کا حوالہ دیتے ہوئے اے بی وی پی پر بھی حملہ کیا۔
انہوں نے الزام کہا کہ اے بی وی پی کا کام صرف بی جے پی کی ریلیوں میں بھیڑ جمع کرنا رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق جب ملک میں پیپر لیک یا طلبہ کے ساتھ زیادتی کے واقعات سامنے آتے ہیں تو اے بی وی پی سڑکوں پر جدوجہد کرتی نظر نہیں آتی۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دہلی یونیورسٹی دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کنہیا کمار نے کہا کہ وزیر اعظم یونیورسٹی تو پہنچے، لیکن وہاں کے خستہ حال انفراسٹرکچر اور طلبہ کے مسائل پر بات نہیں کی۔ انہوں نے ڈیو کے وائس چانسلر پر بھی طنز کیا اور الزام لگایا کہ وہ مودی کی تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ڈی یو کے طلبہ کو ہاسٹل کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے ملک میں اسکولوں کے بند ہونے اور خستہ حال عمارتوں کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ بنیادی سہولیات کے بغیر ’وکست بھارت‘ کا خواب کیسے پورا ہوگا۔ کنہیا کمار نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی جانب سے تعلیمی نظام کی خامیوں پر اٹھائے گئے سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت پر ملک کو ’بدنظمی اور ناخواندگی‘ کی جانب دھکیل رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
