ایف سی آر اے ترمیمی قواعد فوری واپس لیے جائیں، کے سی وینوگوپال کا وزیر اعظم مودی سے مطالبہ
کے سی وینوگوپال نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر ایف سی آر اے ترمیمی قواعد 2026 واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط غیر سرکاری تنظیموں کی خودمختاری اور سماجی خدمات کو شدید متاثر کریں گے

کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر غیر ملکی عطیات کے ضابطہ قانون (ایف سی آر اے) سے متعلق ترمیمی قواعد 2026 پر شدید اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ان قواعد کو فوری طور پر واپس لے اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ بامعنی مشاورت کا عمل شروع کرے، کیونکہ ان کے مطابق یہ ضوابط شہری سماجی اداروں کی خودمختاری اور ان کی معمول کی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کریں گے۔
حال ہی میں مرکزی وزارت داخلہ نے ایف سی آر اے 2010 کے تحت غیر ملکی عطیات حاصل کرنے اور ان کے استعمال سے متعلق مختلف خلاف ورزیوں پر عائد کیے جانے والے جرمانوں میں ترمیم کا اعلان کیا ہے۔ نئی گزٹ اطلاع کے مطابق اگر کوئی غیر سرکاری تنظیم انتظامی اخراجات کی مقررہ حد سے زیادہ غیر ملکی عطیات خرچ کرتی ہے تو اس پر ایک لاکھ روپے یا اضافی خرچ کی گئی رقم کے پانچ فیصد، جو بھی زیادہ ہو، بطور جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
کے سی وینوگوپال نے اپنے خط میں کہا کہ یہ ترمیمی قواعد دراصل ملک کے شہری سماجی اداروں پر ایک منظم حملہ ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد صرف ضابطہ سازی نہیں بلکہ ان اداروں کو مالی اور انتظامی دباؤ میں لا کر ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے، حالانکہ یہی ادارے زمینی سطح پر ترقیاتی اور فلاحی خدمات انجام دیتے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مختلف ریاستوں یا سرگرمیوں کے لیے الگ الگ فیس مقرر کرنا ایک طرح کا انتظامی ٹول ٹیکس ہے، جس سے سماجی تنظیموں کے لیے ملک بھر میں کام کرنا مزید دشوار ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معمولی انتظامی غلطیوں یا پہلے سے منظور شدہ جغرافیائی حدود سے باہر سرگرمیاں انجام دینے پر فنڈ کے تیس فیصد تک یا کم از کم ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کی تجویز نہایت سخت اور انتقامی نوعیت کی ہے۔
کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا کہ ایسے سخت مالی جرمانے چھوٹی اور مقامی سطح پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کو شدید نقصان پہنچائیں گے، خصوصاً وہ ادارے جو معاشرے کے محروم طبقات اور اقلیتی تعلیمی و فلاحی اداروں کی خدمت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان تنظیموں کے پاس بڑے قانونی وسائل موجود نہیں ہوتے، اس لیے وہ ان ضوابط کا بوجھ برداشت نہیں کر سکیں گی۔
انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ حکومت پارلیمانی بحث سے گریز کرتے ہوئے قواعد میں ترمیم کے ذریعے سخت انتظامات نافذ کرنا چاہتی ہے، جو جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ کے سی وینوگوپال نے اپنے خط کے اختتام پر کہا کہ ایک مضبوط جمہوریت کے لیے آزاد اور بااختیار شہری سماجی اداروں کا وجود ناگزیر ہے، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ ایف سی آر اے ترمیمی قواعد 2026 واپس لے کر تعاون اور مکالمے کی راہ اختیار کرے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
