ساگر میں زہریلی شراب سے ہونے والی اموات کی عدالتی جانچ ہو: جیتو پٹواری
جیتو پٹواری نے الزام عائد کیا کہ ’’ریاست میں شراب اور ڈرگ مافیا بے خوف ہو کر اپنا کاروبار چلا رہے ہیں اور عام لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘‘
مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے ساگر میں زہریلی شراب پینے سے تقریباً 15 افراد کی موت کا دعویٰ کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں شراب اور ڈرگ مافیا بے خوف ہو کر اپنا کاروبار چلا رہے ہیں اور عام لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے کی فوری عدالتی جانچ کرانے اور قصورواروں کو 24 گھنٹے کے اندر جیل بھیجنے کا مطالبہ کیا۔
جیتو پٹواری نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ساگر میں زہریلی شراب سے موت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل شاہ پورہ میں بھی 9 افراد کی موت ہوئی تھی۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ وہ پہلے خود ساگر جا کر متاثرہ خاندانوں سے مل چکے ہیں اور وہاں لوگوں میں نشے کے بڑھتے اثرات کو لے کر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ اس دوران کانگریس لیڈر نے وزیر اعلیٰ موہن یادو کو لکھے اپنے سابقہ خط کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق وہ پہلے ہی حکومت کو ریاست میں غیر قانونی شراب اور نشیلی اشیاء کے بڑھتے کاروبار سے آگاہ کر چکے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ریاست میں شراب مافیا کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث کئی خاندانوں کو سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ساگر کا تازہ واقعہ جس میں تقریباً 15 افراد کی موت ہوئی ہے، انتہائی سنگین معاملہ ہے اور حکومت کو فوری طور پر سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ جیتو پٹواری نے کہا کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی جان جانے کے بعد بھی انتظامیہ غیر فعال رہتی ہے تو یہ حکومت کی جوابدہی اور اس کے کام کرنے کے طریقۂ کار پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت شراب مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ اور مکمل عدالتی جانچ ہونی چاہیے، تاکہ واقعے کے ذمہ دار افراد کی شناخت ہو سکے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔
دوسری جانب جیتو پٹواری نے راہل گاندھی کے 19 ستمبر کو اندور آنے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ان کا پروگرام غیر سیاسی ہے۔ اس کا مقصد تعلیم کے مستقبل اور طلبہ کی سلامتی سے متعلق مسائل پر گفتگو کرنا ہے۔ ان کے مطابق پروگرام میں بچوں کو روزگار پر مبنی تعلیم فراہم کرنے اور مدھیہ پردیش میں کے جی سے پی جی تک مفت تعلیم یقینی بنانے جیسے موضوعات پر زور دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ راہل گاندھی کے دورے کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے، بلکہ تعلیمی نظام کے مستقبل پر گفتگو کرنا اس کا بنیادی مقصد ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
