جے کے سی اے فنڈ غبن معاملہ: فاروق عبداللہ نے اپنے اوپر عائد الزامات کو ’من گھڑت‘ قرار دیا
جولائی 2017 میں سی بی آئی نے سی جے ایم سری نگر کے سامنے چارج شیٹ داخل کی تھی۔ ایڈووکیٹ اشتیاق خان فاروق عبداللہ کی جانب سے پیش ہوئے تھے، جبکہ دیگر ملزمان کے وکلاء بھی وہاں موجود تھے۔

نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن (جے کے سی اے) فنڈ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے معاملہ میں اپنے اوپر عائد الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ 88 سالہ فاروق عبداللہ نے سری نگر کی چیف جوڈیشل مجسٹریٹ تبسم کی عدالت میں ورچوئل طریقے سے پیش ہوئے، جنہوں نے انہیں سی بی آئی کی چارج شیٹ کی باتیں پڑھ کر سنائیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں مزید کچھ کہنا ہے تو انہوں نے کہا کہ میرے پاس یہ کہنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ ’یہ الزام من گھڑت‘ ہیں۔
عدالت نے فاروق عبداللہ سے پوچھا کہ کیا انہیں چارج شیٹ کی باتیں جو بتائی گئی تھیں وہ سمجھ آ گئی تھیں تو انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ جب سابق وزیر اعلیٰ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ان الزامات کو قبول کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’’نہیں میں کسی بھی الزام کا قصوروار نہیں ہوں۔‘‘ اس معاملے میں باقی ملزمان جو خود عدالت میں موجود تھے، انہوں نے بھی اپنے اوپر عائد تمام الزامات کو خارج کر دیا، سوائے 2 لوگوں کے جنہیں سی بی آئی نے معاف کر دیا اور ان پر کوئی الزام نہیں لگایا تھا۔ حالانکہ ان دونوں کو معاملے کی سماعت ختم ہونے تک اس میں شامل رہنا ہوگا۔
معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا تھا کہ رنبیر پینل کوڈ کی دفعہ 120-بی (مجرمانہ سازش)، 406 (مجرمانہ دھوکہ) اور 409 (سرکاری ملازم کے ذریعہ مجرمانہ دھوکہ) کے تحت جرائم کے لازمی عناصر پہلی نظر میں عبداللہ کے خلاف بنتے نظر آ رہے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ کے علاوہ ملزمان میں محمد سلیم خان (اُس وقت کے جے کے سی اے کے جنرل سکریٹری)، احسان احمد مرزا (اس وقت کے خزانچی)، منظور غضنفر علی، بشیر احمد مِسگر (جموں اینڈ کشمیر بینک کے ایک افسر) اور گلزار احمد بیگ شامل ہیں۔
عدالت نے باقی ملزمان کے خلاف بھی فرد جرم عائد کی۔ جے کے سی اے میں فنڈ کے غلط استعمال کے الزامات پر، سری نگر کے رام منشی باغ پولیس اسٹیشن نے 10 مارچ 2012 کو آر پی سی کی دفعات 120-بی، 406 اور 409 کے تحت ایف آئی آر نمبر 27/2012 درج کی تھی۔ پولیس کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے دوران اور ہائی کورٹ کی مداخلت پر، اس معاملے کی جانچ بعد میں سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو سونپ دی گئی۔ جولائی 2017 میں، سی بی آئی نے اس معاملے میں سی جے ایم سری نگر کے سامنے چارج شیٹ داخل کی تھی۔ ایڈووکیٹ اشتیاق خان فاروق عبداللہ کی جانب سے پیش ہوئے تھے، جبکہ دیگر ملزمان کے وکلاء بھی وہاں موجود تھے۔