جیتو پٹواری کا صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو خط، مدھیہ پردیش کے قبائلی طبقے کے مسائل پر توجہ دلانے کی اپیل

مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو خط لکھ کر قبائلی علاقوں میں تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف سے متعلق مسائل پر توجہ دلائی اور مؤثر مداخلت کی اپیل کی

<div class="paragraphs"><p>جیتو پٹواری، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

مدھیہ پردیش میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے پانچ روزہ دورے سے قبل ریاستی کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے انہیں ایک خط لکھ کر قبائلی سماج کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ریاست کا قبائلی سماج آج بھی ترقی اور بنیادی حقوق کی مرکزی دھارے سے پوری طرح نہیں جڑ سکا ہے اور متعدد مسائل سے دوچار ہے۔

جیتو پٹواری نے اپنے خط میں کہا کہ ملک کی پہلی قبائلی خاتون صدر کی حیثیت سے دروپدی مرمو کی زندگی جدوجہد، خدمت اور آئینی اقدار سے وابستگی کی روشن مثال ہے، جو کروڑوں قبائلی باشندوں کے لیے باعث ترغیب ہے۔ انہوں نے لکھا کہ مدھیہ پردیش ملک کی سب سے بڑی قبائلی آبادی والی ریاست ہے، جہاں تقریباً ایک کروڑ ترپن لاکھ قبائلی باشندے رہتے ہیں، جو ریاست کی کل آبادی کا لگ بھگ اکیس فیصد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین سازوں نے قبائلی سماج کے لیے خصوصی تحفظات اور سہولیات کا تصور پیش کیا تھا، لیکن اس کے باوجود جھابوا، علی راج پور، دھار، بڑوانی، کھرگون، منڈلا، ڈنڈوری، شہڈول، امریہ، انوپ پور، بیتول، چھندواڑہ، سیونی اور شیو پوری جیسے قبائلی اکثریتی اضلاع میں ترقی کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔


کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ تعلیم قبائلی سماج کی ترقی کا سب سے اہم ذریعہ ہے، لیکن ان علاقوں میں شرح خواندگی ریاست کی اوسط شرح سے کم ہے۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں بھی شدید بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی صحت مراکز میں ڈاکٹروں اور ماہرین کی کمی برقرار ہے، جس کے باعث قبائلی آبادی کو مناسب طبی سہولتیں میسر نہیں آ رہیں۔

جیتو پٹواری نے اپنے خط میں یہ بھی کہا کہ روزگار کے مواقع کی کمی کے باعث قبائلی نوجوان نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ مختلف مطالعات میں درج فہرست قبائل کو ملک کے سب سے زیادہ محروم سماجی طبقات میں شمار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق صحت، تعلیم اور معیار زندگی کے بیشتر اشاریوں پر قبائلی سماج شدید پسماندگی کا شکار ہے۔

انہوں نے قبائلی علاقوں میں خواتین کے خلاف جرائم، انسانی اسمگلنگ، زمین سے متعلق تنازعات، جنگلاتی حقوق کے مسائل اور درج فہرست قبائل کے خلاف مظالم کی روک تھام سے متعلق قانون کے مؤثر نفاذ میں کمی کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد معاملات میں متاثرہ خاندانوں کو انصاف کے حصول کے لیے طویل انتظامی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

جیتو پٹواری نے صدر جمہوریہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے دورۂ مدھیہ پردیش کے دوران قبائلی سماج کے نمائندوں، سماجی تنظیموں اور عوامی نمائندوں سے ملاقات کریں اور ریاستی حکومت کو ان مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت دینے کی کوشش کریں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔