جھارکھنڈ: جے ایس ایس سی-سی جی ایل اور سی ڈی پی او تقرریاں منسوخ کرنے کے حکم پر ہائی کورٹ کی روک

جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے جے ایس ایس سی-سی جی ایل اور سی ڈی پی او امتحانات سے متعلق تقرریاں منسوخ کرنے کے سرکاری حکم پر روک لگاتے ہوئے حکومت اور متعلقہ کمیشن سے جواب طلب کیا، اگلی سماعت 15 ستمبر کو ہوگی

<div class="paragraphs"><p>جھارکھنڈ ہائی کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>
i

رانچی: جھارکھنڈ میں بھرتی امتحانات اور ان کے ذریعے ہوئی تقرریوں کو منسوخ کرنے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کے خلاف قانونی محاذ مزید وسیع ہو گیا ہے۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے جمعہ کو جے ایس ایس سی-سی جی ایل اور سی ڈی پی او (چائلڈ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ آفیسر) امتحانات سے متعلق تقرریاں منسوخ کرنے کے سرکاری احکامات پر عمل درآمد روک دیا۔ عدالت نے ان دونوں معاملات میں ریاستی حکومت اور متعلقہ کمیشن سے جواب بھی طلب کیا ہے۔

جسٹس دیپک روشن کی عدالت میں چار الگ الگ عرضیوں پر سماعت ہوئی۔ عرضی گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ اندرجیت سنہا اور امرتانش وتس نے عدالت میں اپنا موقف پیش کیا۔ عرضی گزاروں نے خاص طور پر حکومت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جس کے تحت سی ڈی پی او امتحان کا اشتہار منسوخ کیا گیا اور جے ایس ایس سی-سی جی ایل امتحان کے ساتھ اس کے نتیجے میں ہوئی تقرریوں کو بھی ختم کرنے کا حکم دیا گیا۔

عدالت نے جمعہ کی سماعت کے دوران حکومت سے یہ واضح کرنے کو کہا ہے کہ ان مخصوص امتحانات اور تقرریوں کو منسوخ کرنے کی بنیاد کیا ہے اور تحقیقات کے دوران کون سے حقائق سامنے آئے ہیں۔ اس کے لیے ریاستی حکومت کو 7 ستمبر تک اپنا حلف نامہ داخل کرنا ہوگا، جبکہ عرضی گزاروں کو حکومت کے جواب پر 14 ستمبر تک جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 15 ستمبر کو ہوگی۔


سماعت کے دوران ریاست کے ایڈووکیٹ جنرل روہت رائے نے عدالت سے درخواست کی کہ حکومت کے خلاف دائر اس نوعیت کے تمام معاملات میں حلف نامہ داخل کرنے کے لیے ایک مقررہ مدت طے کی جائے، تاکہ معاملے کی سماعت ایک منظم طریقے سے آگے بڑھ سکے۔

سی ڈی پی او کے معاملے میں عرضی گزاروں نے حکومت کی جانب سے امتحان کا اشتہار ہی منسوخ کیے جانے کو چیلنج کیا ہے۔ دوسری طرف جے ایس ایس سی-سی جی ایل کے معاملے میں امتحان اور اس کے ذریعے ہوئی تقرریوں کو منسوخ کرنے کے سرکاری حکم کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔

قبل ازیں، جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے گزشتہ روز 11ویں سے 13ویں جے پی ایس سی مشترکہ سول سروس اور فوڈ سیفٹی آفیسر امتحانات کے ذریعے ہوئی تقرریاں منسوخ کرنے کے حکومت کے حکم پر بھی عبوری روک لگا دی تھی۔ تاہم جمعہ کی سماعت میں عدالت نے جے ایس ایس سی-سی جی ایل اور سی ڈی پی او سے متعلق معاملات کو الگ سے زیر غور لاتے ہوئے حکومت اور متعلقہ کمیشن سے وضاحت طلب کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ریاستی حکومت نے 18 اگست کو سی آئی ڈی کی جاری تحقیقات میں سامنے آنے والے مبینہ بے ضابطگیوں کے حقائق کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر بھرتی امتحانات کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ حکومت نے 22 امتحانات منسوخ کرنے، 6 امتحانات کی کارروائی روکنے اور 2014 سے منعقد 17 دیگر تقرری امتحانات کو جانچ کے دائرے میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔


حکومت کے ان فیصلوں سے ایسے امیدوار بھی متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے امتحانات کامیابی سے پاس کرکے تقرری حاصل کی اور بعض صورتوں میں سرکاری ملازمت شروع بھی کر دی تھی۔ اب جے ایس ایس سی-سی جی ایل اور سی ڈی پی او کے معاملات میں ہائی کورٹ کی روک کے بعد حکومت کو یہ بتانا ہوگا کہ منسوخی کا فیصلہ کن شواہد اور تحقیقات کے کن نتائج پر مبنی ہے۔ عدالت کے سامنے آئندہ سماعتوں میں نہ صرف مبینہ بے ضابطگیوں بلکہ منتخب امیدواروں کے قانونی حقوق کا معاملہ بھی اہم رہے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔