بیان بازی میں ہیرو، کام کرنے میں زیرو ہے بی جے پی: راجیو رنجن

راجیو رنجن نے کہا کہ مکمل طور پر پبلسٹی پر انحصار کرنے والی اس جماعت کے لیڈر ہر روز کوئی نہ کوئی نیا جملہ پھیلانے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے قومی جنرل سکریٹری راجیو رنجن نے   کل کہا کہ جھوٹ بول بول کر اور عوام کو خواب دکھانے کی سیاسی عادت نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے تمام لیڈروں کو بیان بہادر بنا دیا ہے۔

مسٹررنجن نے ہفتہ کو کہا کہ بی جے پی عوام سے متعلق کوئی کام نہیں کرتی ہے، لیکن بات بنانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ کسانوں کی بات ہو، یا خواتین یا عام آدمی کی، ہر معاملے پر ان کے قول و فعل میں فرق صاف نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکمل طور پر پبلسٹی پر انحصار کرنے والی اس جماعت کے لیڈر ہر روز کوئی نہ کوئی نیا جملہ پھیلانے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں، لیکن اگر سچائی دیکھیں تو ان کے بیشتر وعدے آج تک پورے نہیں ہو سکے۔صرف  اعداد و شمار کی بازیگری کے سہارے یہ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔


جے ڈی یو کے قومی جنرل سکریٹری نے کہا کہ ان کے ساڑھے 9 برسوں میں صرف ان کی پارٹی اور اس کے سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ ہوا ہے، جہاں عام لوگ اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہیں، وہیں بی جے پی کے سرمایہ دار دوستوں کی دولت میں اربوں کھربوں کی تبدیلی ہوتی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے انتخابی فنڈز میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ہر ریاست میں ان کے نئے بنائے گئے دفاتر کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی لیڈران اب بھی انقلاب لانے کا جھوٹ بولتے نہیں تھک رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے لیڈر بیان بازی میں ہیرو اور کام کرنے میں زیروبن چکے ہیں۔

مسٹر رنجن نے بی جے پی کے وعدوں کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ 2022 تک ہر کسان کی آمدنی دوگنی ہو جائے گی، لیکن حقیقت میں ان کے دور حکومت میں کسانوں کی حالت ابتر ہو گئی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے کاشتکاری کے دوران بھی کھاد فراہم نہ کرنے کی وجہ سے بہار میں کسانوں کو یوریا اور دیگر ضروری کھادوں کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ اسی طرح انہوں نے متوسط ​​طبقے کے لوگوں کی آمدنی بڑھانے کا خواب دکھایا تھا لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے آج ان کی زندگی بھی مشکلات سے گزر رہی ہے۔ یہ لوگ ہر معاملے پر صرف مبالغہ آمیز بیانات دیتے ہیں لیکن زمینی حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔


جے ڈی یو کے جنرل سکریٹری نے بی جے پی کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے سیکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ درحقیقت بی جے پی کو وزیر اعلیٰ مسٹرکمار سے سیکھنا چاہیے کہ اپنے قول پر پورا کیسے اتراجاتا ہے، چاہے وہ ذات شماری کی بات ہو یا شراب بندی، انہوں نے تمام مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد بھی عوام سے کیے گئے ہر وعدوں  کو پورا کیا ہے۔ آج ان کی بدولت بہار کے ہر گاؤں میں سڑک، بجلی اور پانی جیسی سہولیات پہنچی ہیں۔ اسکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد تقریباً لڑکوں کے برابر ہوچکی ہے۔ نتیش جی جو کہتے ہیں وہ ضرور کرتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔