جموں: بیوی، ساس اور سسر کو گولی مار کر قتل کرنے والا پولیس اہلکار گرفتار

بیان کے مطابق واقعے کی نسبت پولیس تھانہ ستواری میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو جگن سو سے گرفتار کر لیا ہے۔ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

جموں: جموں و کشمیر پولیس نے جموں شہر میں اپنی بیوی، ساس اور سسر کو اپنی سروس رائفل سے ہلاک کرنے والے پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا ہے۔ جموں پولیس کی طرف سے یہاں جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس پوسٹ منڈل فالیاں کو گزشتہ رات اطلاع ملی کہ پولیس اہلکار راجندر کمار نے الورہ نامی گاؤں میں اپنی بیوی سیما دیوی، اپنی ساس راج کماری اور اپنے سسر رومیش کمار پر اپنے سروس ہتھیار سے گولیاں چلائی ہیں۔

پولیس بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاں پولیس اہلکار کی ساس موقع پر ہی دم توڑ گئی وہیں اس کی بیوی اور سسر کو شدید زخمی حالت میں گورنمنٹ میڈیکل کالج و اسپتال جموں منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ بیان کے مطابق واقعے کی نسبت پولیس تھانہ ستواری میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو جگن سو سے گرفتار کر لیا ہے۔ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔


ذرائع نے بتایا کہ ملزم پولیس اہلکار اور اس کی بیوی کے درمیان کوئی گھریلو تنازعہ چل رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم پولیس اہلکار بدھ کی شام دیر گئے اپنی بیوی کے میکے پہنچا اور وہاں نہ صرف اپنی بیوی بلکہ اپنی ساس اور سسر کو بھی گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

مقتولہ سیما دیوی کے بھائی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ 'وہ اچانک گھر میں داخل ہوا اور کہا کہ میری پروموشن ہوئی ہے۔ میں آپ کو مٹھائی دینے آیا ہوں۔ میں گھر پر نہیں تھا۔ مجھے بھی فون کر کے گھر بلوایا۔ اس نے سب کو سامنے بٹھایا۔ کسی کو بات کرنے کا موقع ہی نہیں دیا اور سب کو اڑا دیا۔ یہ تو کھلواڑ ہے'۔


ان کا مزید کہنا تھا کہ 'میرا سوال ہے کہ اس کو اپنی سروس رائفل گھر لے جانے کی اجازت کیسے دی گئی۔ کیا یہ رائفل اس لئے دی گئی تھی کہ تمہارا بیوی کے ساتھ جھگڑا ہے اور جا کر سب کو اڑا دو۔ ایسے پہلے بھی دو تین کیس ہو چکے ہیں۔ اس کے چار پانچ سال کے دو بچے ہیں۔ ان کو کون سنبھالے گا۔ کیا پولیس ان کا خرچہ اٹھائے گی اور ان کی ماں، نانا اور نانی کو واپس لائے گی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ قاتل کو پھانسی دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات پیش نہ آئے'۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔