جموں و کشمیر: ’بیوروکریسی وزیر اعلیٰ کے ہی خلاف‘، ریاستی درجے کی بحالی کی مخالفت پر عمر عبداللہ کا بیان

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی میں سوال کیا کہ ’’کیا کسی دوسری ریاست میں ایسا ہو سکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کوئی قرارداد پیش کرے اور اس کی بیوروکریسی ہی اس کے خلاف کام کرے؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>عمر عبداللہ (فائل فوٹو) / تصویر: آئی اے این ایس</p></div>
i

جموں و کشمیر اسمبلی میں ایک بار پھر ریاست کا درجہ بحال کرنے کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ اسے لے کر اسمبلی میں خوب ہنگامہ ہوا۔ جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری اٹل ڈلّو اور قانون سکریٹری اچل سیٹھی نے اسمبلی سکریٹریٹ کو اس سلسلے میں الگ الگ خط لکھے۔ دونوں افسران نے اسپیکر سے ریاست کا درجہ بحال کرنے والی قرارداد قبول نہ کرنے کو کہا۔ اس قرارداد کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ (25 ستمبر) کو اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق اسپیکر کو پیر (28 ستمبر) کو ان خطوط کے متعلق علم ہوا تھا۔ دونوں افسران نے اسمبلی سکریٹریٹ سے کہا کہ انہیں ایسی قرارداد کو منظوری دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے، کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ عمر عبداللہ کے پاس وزارت قانون کا بھی چارج ہے۔ انہوں نے قانون سکریٹری کے اس خط پر ناراضگی ظاہر کی ہے کیونکہ انہیں اس کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو اسمبلی سکریٹریٹ سے اس خط کے بارے میں جانکاری ملی۔ انہوں نے پیر کو اسمبلی میں اس معاملے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ عمر عبداللہ نے اسمبلی میں سوال کیا کہ کیا کسی دوسری ریاست میں ایسا ہو سکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کوئی قرارداد پیش کرے اور اس کی بیوروکریسی ہی اس کے خلاف کام کرے؟


عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے ساتھ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ جموں و کشمیر ریاست نہیں بلکہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے۔ انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ کس کے کہنے پر افسران نے یہ خطوط لکھے۔ دراصل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو اسمبلی میں ریاست کا درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کی تھی۔ اس قرارداد میں 2000 کی خود مختاری کی قرارداد کا بھی ذکر تھا۔ پیر کے روز بی جے پی کی مخالفت اور واک آؤٹ کے درمیان یہ قرارداد اسمبلی میں منظور ہو گئی۔