کشمیر میں شدید سردی کی لہر، سرینگر میں ٹوٹا گیارہ سالہ ریکارڈ

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 40 دنوں پر محیط شہنشاہ زمستان معنون بہ چلہ کلان، جو 21 دسمبر سے شروع ہوتاہے، میں گیارہ برس بعد درجہ حرارت میں اس قدر گراوٹ درج کی گئی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سرینگر: وادی کشمیر میں سردی کی شدت میں مسلسل ہورہے اضافے کے باعث جمعرات کو شہرہ آفاق جھیل ڈل سمیت تمام آبگاہیں اور نل منجمد پائے گئے۔ سرینگر میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کے دوران کم سے کم درجہ حرارت منفی 7.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڑ کیا گیا جس کی وجہ سے یہاں گیارہ برس بعد ماہ دسمبر میں سرد ترین رات درج کی گئی۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 40 دنوں پر محیط شہنشاہ زمستان معنون بہ چلہ کلان، جو 21 دسمبر سے شروع ہوتاہے، میں گیارہ برس بعد درجہ حرارت میں اس قدر گراوٹ درج کی گئی ہے۔

سرینگر میں 31 دسمبر 2007 کو کم سے کم درجہ حرارت منفی 7.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سرینگر میں اس سے قبل 13 دسمبر 1934 کو کم سے کم درجہ حرارت منفی 12.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

وادی میں گزشتہ چند ہفتوں سے دن میں اگر چہ مطلع صاف رہتا ہے اورہلکی دھوپ بھی کھلی رہتی ہے لیکن شدید سردی کی لہر جاری رہنے کے باعث معمولات زندگی متاثرہوکر رہ جاتے ہیں۔

اس سے قبل رواں ماہ کی 24 تاریخ کو سردترین رات ریکارڑ کی گئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی 6.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڑ کیا گیا تھا اور شہر ودیہات میں آبگاہیں اورتمام چھوٹے بڑے جھیل جھرنے اور نل جزوی طور پر منجمند ہوئے تھے۔

یو این آئی کوموصولہ اطلاعات کے مطابق شہر سرینگر کے کئی علاقوں بشمول سیول لائنز ، قصبوں اورمتعدد دیہات میں نل منجمد ہونے کے باعث لوگوں کو پانی کے ایک ایک بوند کے لیے ترسنا پڑا ، پینے کے لیے پانی دستیاب نہیں تھا منہ ہاتھ یا کپڑے وغیرہ دھونے کے لیے پانی کی دستیابی کی بات ہی نہیں ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
واٹر سپلائی کے پائپوں میں منجمد برف کو پگھلانے کی کوشش کرتے لوگ

کئی واٹر سپلائی اسسکیمیں منجمد ہونے کی وجہ سے پانی کی دستیابی میں شدید قلت شہر ودیہات میں محسوس کی جارہی ہے۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے نلوں کو نائلون یا کسی دوسرے موٹے کپڑے میں لپیٹ لیا ہے تاکہ سردی سے یہ نل جم نہ ہوجائیں لیکن سردی کی شدت کے سامنے یہ تمام تدبیریں نقش بر آب ثابت ہورہی ہیں۔

سرینگر میں سیاحوں کا خصوصی مرکز جھیل ڈل کے کنارے اور اندرونی حصے منجمد ہوئے تھے۔ جمعرات کی صبح لوگوں بشمول سیاح کو منجمد سطح پر فوٹو کھینچتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس دوران کچھ لوگ جمی ہوئی سطح پرکنکرے اور کاغذ کی بنی ہوئی گیندیں پھینک رہے تھے۔ شکارہ والوں کو شکارے چلانے میں انتہائی کٹھن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

تاہم لوگ منجمد سطح پر چلنے پھرنے میں جھجک محسوس کررہےتھے لیکن ڈل کے اندرونی علاقوں میں مختلف ہی سماں تھا جہاں لوگ بلا جھجک منجمد سطح پر چلتے پھرتے دیکھے گئے۔

دریں اثنا محکمہ موسمیات کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران موسم خشک اور سرد رہنے کی توقع ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ سرینگر کی طرح وادی اور خطہ لداخ کے تمام حصوں میں سخت سردی کا راج برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہرہ آفاق سیاحتی مقامات گلمرگ اور پہلگام میں گزشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی 9 اور منفی 8.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

محکمہ موسمیات کے عہدیدار نے کہا کہ خطہ لداخ کے دو قصبوں لیہہ اور کرگل میں گزشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی 8.4 اور منفی 16.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم ریاست میں دراس سرد ترین مقام ثابت ہوئی جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی 20.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔