کشمیری علما کا اجلاس، وسیم رضوی کے خلاف قرارداد منظور

وسیم رضوی کی ‘ارتدادی حرکت’ کو دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے دینی جذبات مجروح کرنے اور مسلکی تشدد بھڑکانے کی ایک منصوبہ بند سازش کی کڑی قرار دیا گیا۔

فائل تصویر آئی اے این ایس 
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

جموں و کشمیر میں درجنوں مذہبی، سماجی اور ملی تنظیموں پر مشتمل اتحاد 'متحدہ مجلس علما جموں و کشمیر' نے اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کے 'توہین قرآن اقدام' کے خلاف ایک متفقہ مذمتی قرارداد منظور کی ہے جس میں حکومت ہند سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مذکورہ شخص کو قرآن کریم کی توہین کی پاداش میں فوری طور پر گرفتار کر کے سزا دی جائے۔

قرار داد میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وسیم رضوی کے 'ارتدادی فعل' سے متعلق شیعیان عالم کے مراجع عظام کو تفصیلی خط روانہ کر کے موصوف کے 'ارتداد' کا فتویٰ لیا جائے۔ کیونکہ موصوف شیعیت کا لبادہ اوڑھ کر 'ارتدادی حرکات' انجام دے رہا ہے۔


ترجمان کے مطابق جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر دفتر شریعت آباد بڈگام پر منگل کو متحدہ مجلس علما کا ایک ہنگامی اجلاس خانہ محبوس امیر مجلس میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق کی ہدایت پر منعقد ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس باوقار اجلاس کی صدارت حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کی۔ اجلاس میں جن دینی تنظیموں اور اداروں کے سربراہان و نمائندگان نے شرکت کی ان میں مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام، مولانا مسرور عباس انصاری، آغا سید محمد ہادی، مفتی محمد اسحاق نازکی، مولوی محمد اشرف عنایتی، مولانا خورشید احمد قانونگو، مولانا لطیف احمد بخاری، مفتی سید احمد بخاری، مفتی غلام رسول سامون، مولانا فرید الرحمان بخاری، مولانا غلام رسول نوری، سید عابد حسین حسینی، مولوی بشیر احمد بٹ، سید عابد رضوی، مولوی مدثر احمد، مولوی غلام حسین متو، مجلس کے سیکریٹری مولانا ایم ایس رحمان شمس و دیگر درجنوں علما و مشائخ شامل ہیں۔


اجلاس میں وسیم رضوی کی طرف سے قرآن مقدس سے آیات حذف کرنے سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر عرضی سے پیدا شدہ صورتحال کو زیر بحث لایا گیا اور اس 'ارتدادی حرکت' کو دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے دینی جذبات مجروح کرنے اور مسلکی تشدد بھڑکانے کی ایک منصوبہ بند سازش کی کڑی قرار دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق اس موقع پر ایک متفقہ قرارداد پیش کی گئی جس میں وسیم رضوی کی نا شائستہ حرکت اور ارتدادی فعل کی پر زور الفاظ میں مذمت کی گئی اور حکومت ہند سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مذکورہ شخص کو قرآن کریم کی توہین اور فرقہ وارانہ فساد برپا کرنے کی پاداش میں فوری طور گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی مذہب یا مذہبی کتاب کے خلاف عدالت میں کوئی عرضی داخل نہیں کی جا سکتی۔ بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے اس نوعیت کی عرضی کی شنوائی کے لئے معاملہ درج کرنا ملت اسلامیہ کے لئے انتہائی دلخراش ہے لہٰذا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ عرضی کو بلاتاخیر خارج کیا جائے۔


قرارداد میں یہ بات زور دے کر کہی گئی کہ اس طرح کی جنونی حرکات کرنے والے افراد و عناصر کو کسی مذہب یا مسلک کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔

قرار داد میں متحدہ مجلس علما کے محبوس امیر میرواعظ کشمیر کی نظر بندی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ موصوف اس نوعیت کے حساس معاملوں میں قیادت کے ساتھ ساتھ اپنی منصبی ذمہ داریاں پورا کر سکیں۔ اس موقعہ پر جموں و کشمیر کے تمام سیاسی اسیروں کی رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا گیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔