جامعہ کے طلبا نے فی الحال تحریک واپس لی، 5 جنوری تک سرمائی تعطیل کا اعلان

یونیورسٹی انتظامیہ نے کشیدہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے تمام امتحانات ملتوی کر دیے اور 16 دسمبر سے آئندہ برس پانچ جنوری تک سرمائی چھٹیوں کا اعلان کر دیا ۔

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

جامعہ انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی میں موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان کرنے کے بعد شہریت ترمیمی قانون (سی اے بی) کی مخالفت میں مظاہرہ کر رہے طلبا نے فی الحال اپنی تحریک روک دی ہے۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنی تحریک واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔اس سے پہلے ہفتہ کو مسلسل دوسرےروز بھی احتجاجی مظاہرہ جاری رہا اور کشیدہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام امتحانات ملتوی کر دیے گئے اور 16 دسمبر سے سرمائی تعطیل کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے طلباء نے گزشتہ روز پولیس کی جانب سے کئے گئے لاٹھی چارج کے خلاف ہفتہ کو یونیورسٹی بند کا اعلان کیا تھا ۔ طلباء کے احتجاج کی وجہ سے یونیورسٹی انتظامیہ نے ہفتہ کو ہونے والے سمسٹر امتحانات ملتوی کر دیے ۔ جامعہ ٹیچر س ایسوسی ایشن نے طلباء کے احتجاج کی حمایت کی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی جامعہ کے سابق طلباء نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے پہلے صرف آج ہونے والے سمسٹر امتحانات ملتوی کر دئے تھے لیکن کشیدہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے تمام امتحانات ملتوی کر دیے اور 16 دسمبر سے آئندہ برس پانچ جنوری تک سرمائی چھٹیوں کا اعلان کر دیا ۔ ابھی یونیورسٹی چھ جنوری کو کھلے گی اور تمام امتحانات کی تاریخوں کا از سر نو اعلان کیا جائے گا ۔

جامعہ طلباء یونین کے سابق صدر شمس پرویز نے يواین آئی کو بتایا کہ حکومت شہریت کا جو قانون لے کر آئی ہے وہ آئین پر حملہ ہے اور ملک کو توڑنے والا ہے ۔ انہوں نے طلباء کے احتجاج کو اپنی حمایت دیتے ہوئے کہا کہ جامعہ کے بانیوں اور طلباء نے انگریزی حکومت کے خلاف بہادری کی مثال پیش کی اور اب جب ملک میں جمہوریت بچانے کی جنگ ہے تو ہم پیچھے نہیں ہٹنے والے ہیں ۔ ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا جامعہ کے بانیوں کو سچی خراج عقیدت پیش کرنا ہوگی۔ مظاہرہ کر رہے طلباء مسلسل انقلاب زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔

طلبا ء کا کہنا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ان کا احتجاج جاری رہے گا ۔ طلباء کا کہنا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون جمہوریت کے خلاف ہے اور مسلم معاشرے کو اس قانون سے الگ رکھا گیا ہے ۔ امن امان بنائے رکھنے کے لئے جامعہ سے ایک کلومیٹر دور بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی ہے جہاں کئی اضلاع کے اعلی افسر ان بھی موجود ہیں ۔ واضح ر ہے کہ جمعہ کے روز احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں کئی طلباء اور 12 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے ۔ طلباء گزشتہ روز جامعہ سے پارلیمنٹ کی جانب جانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے یونیورسٹی کیمپس میں ہی روکنے کی کوشش کی جس کے بعد پولیس اور طلباء کے درمیان میں کہا سنی ہو گئی۔اس کے بعد پولیس نے طلباء پر آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کیا ۔

next