جامعہ: مظاہرے کے دوران ’بریانی تقسیم‘ کا سلسلہ، تاکہ بھوک پریشانی کا باعث نہ ہو
جامعہ کے ارد گرد کے تمام ڈھابے، ہوٹل یہاں تک کہ چائے کے چھوٹے چھوٹے اسٹال بھی بند ہیں۔ ایسی صورتحال میں مقامی افراد طلباء کی مدد سے صبح سے رات تک یہاں کھڑے مظاہرین کے کھانے پینے کا انتظام کر رہے ہیں

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کی مخالفت میں احتجاج کر رہے ان مظاہرین کے نزدیک بھوک تشویش کا باعث نہیں ہے جو صبح صبح جامعہ ملیہ اسلامیہ پہنچ جاتے ہیں۔ ان مظاہرین کے لئے بریانی نزدیک کے ہی جامعہ نگر میں تیار کی جاتی ہے۔ دوپہر ہوتے ہوتے بڑے بڑے برتنوں میں ویج اور نان ویج بریانی دونوں طرح کی بریانی جامعہ کیمپس کے باہر گاڑیوں کے ذریعے پہنچائی جاتی ہے۔ بریانی کے ساتھ پینے کے پانی کے ہزاروں پاؤچ بھی یہاں پہنچائے جاتے ہیں۔
بریانی تقسیم کا یہ سلسلہ ہفتہ کے روز بھی چلا اور اس سے پہلے جمعہ کی نماز کے بعد بھی جاری تھا۔ نماز جمعہ کی نماز کے بعد ہزاروں بچے خواتین، طلباء و طالبات، بزرگ اور نوجوان جامعہ کیمپس کے باہر پہنچ گئے تھے۔ مظاہرین کا یہ ہجوم سڑک کے دونوں اطراف ایک کلومیٹر تک پھیل گیا تھا۔
ان میں بہت سارے لوگ تھے جو نماز جمعہ کے بعد سیدھے جامعہ کیمپس کے باہر پہنچ گئے تھے۔ نوشاد، نسیم، رحمان اور ان کے بہت سے نوجوان ساتھیوں نے یہاں ان لوگوں کے کھانے کا مکمل انتظام کیا تھا۔ رحمان نے کہا کہ ہر روز مختلف لوگ خود ہی کھانے پینے کے انتظامات رضاکارانہ طور پر کر رہے ہیں۔
لوگوں میں ہفتہ کے روز دوپہر کے وقت بریانی تقسیم کرنے کا یہ سلسلہ تقریبا دو گھنٹے تک جاری رہا۔ بریانی سے بھری بڑی بڑی دیگیں یہاں لائی جاتی ہیں اور خالی ہونے کے بعد بریانی سے پُر دوسری دیگ جامعہ کیمپس کے باہر سڑک لائی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سینکڑوں لوگوں کے بریانی کو کھانے اور کھلانے کے بعد بھی یہاں گندگی یا کوڑے کا ڈھیر نہیں لگتا کیوں کھانے کے فوراً بعد رضاکارانہ طور کچھ لوگ خوس ہی صفائی بھی کر دیتے ہیں۔
کچھ مظاہرین میں بریانی کے پیکٹ تقسیم کئے جاتے ہیں جبکہ کچھ کو پلیٹوں میں بریانی پیش کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، پینے کے پانی کے پاؤچ بھی تقسیم کئے جاتے ہیں۔ بریانی کے علاوہ یہاں مظاہرین کے لئے چائے اور بسکٹ وغیرہ کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔
دراصل، جامعہ کے ارد گرد کے تمام ڈھابے، ہوٹل یہاں تک کہ چائے کے چھوٹے چھوٹے اسٹال بھی بند ہیں۔ ایسی صورتحال میں مقامی افراد جامعہ کے کچھ طلباء کی مدد سے صبح سے رات تک یہاں کھڑے مظاہرین کے کھانے پینے کا انتظام کر رہے ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
