جے پور: ’پیرامیڈیکل امتحان‘ میں نقل کا ہوا انکشاف، طلبہ کے ہنگامہ کے بعد متعلقہ سنٹر کا امتحان منسوخ

پولیس تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جھنجھنو کے ایک کالج کے 45 طلبہ کو امتحان میں پاس کرانے کے لیے 5.50 لاکھ روپے میں سودا طے کیا گیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>امتحان کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i

جے پور میں پیرامیڈیکل امتحان کے دوران مبینہ نقل کی سازش کا بڑا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ جھنجھنو کے ایک کالج کے 45 طلبہ کو امتحان میں پاس کرانے کے لیے 5.50 لاکھ روپے میں سودا طے کیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں 2 کالجوں سے وابستہ منتظمین، ایچ او ڈی اور لیکچرر سمیت 4 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب معاملہ سامنے آنے کے بعد امتحان مراکز پر موجود طلبہ نے شدید ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی۔ بڑھتے ہوئے تنازعہ کو دیکھتے ہوئے راجستھان پیرامیڈیکل کونسل نے جے پور کے پربھا دیوی میموریل پی جی کالج امتحان مرکز پر ہونے والے امتحانات کو آئندہ احکامات تک فوری طور پر منسوخ کر دیا۔

ڈی سی پی (ویسٹ) پرشانت کرن کے مطابق کھورابیسل تھانہ پولیس نے جھنجھنو کے مکندگڑھ واقع ایس کرن کالج کے ایچ او ڈی کرشن کمار، لیکچرر شنکر لال جاٹ (27)، جے پور کے پربھا دیوی میموریل پی جی کالج کے منتظم رام کرشن منڈیوال اور ان کے بھتیجے دیو کرشن منڈیوال کو گرفتار کیا ہے۔ پوچھ گچھ میں یہ بات سامنے آئی کہ ایس کرن کالج کے پہلے سال کے 45 طلبہ کی بیک لگی ہوئی تھی۔ انہیں پاس کرانے کے لیے جے پور واقع امتحان مرکز کے منتظم سے 5.50 لاکھ روپے میں سودا طے کیا گیا تھا۔


پولیس کے مطابق سازش کے تحت تمام 45 طلبہ کو امتحان مرکز کے ایک ہی کمرے میں بیٹھایا جانا تھا۔ امتحان کے دوران ڈیوٹی پر تعینات انویجیلیٹر کے ذریعہ ان سے سوالنامہ حل کرانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا تاکہ تمام طلبہ کو امتحان میں پاس کرایا جا سکے۔ نقل کی اطلاع ملتے ہی امتحان مرکز پر موجود دیگر طلبہ بھڑک گئے۔ انہوں نے کالج کے احاطے کے باہر نعرے بازی کرتے ہوئے جم کر ہنگامہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ احتجاج کے دوران طلبہ نے کرسیاں پھینکیں اور امتحان کو فوری طور پر منسوخ کرنے کے مطالبے پر بضد ہو گئے۔ حالات بگڑنے پر اضافی پولیس فورس کو موقع پر تعینات کیا گیا۔ پولیس نے کافی مشقت کے بعد احتجاج کر رہے طلبہ کو پرسکون کرایا۔ اس کے بعد راجستھان پیرامیڈیکل کونسل نے بے ضابطگی اور بدانتظامی کو دیکھتے ہوئے پربھا دیوی میموریل پی جی کالج امتحان مرکز کے تمام امتحانات آئندہ احکامات تک منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 27 جون کو کنٹرول روم کو کالواڑ روڈ واقع پربھا دیوی میموریل پی جی کالج میں پیسے لے کر پیپر لیک کرانے کی اطلاع ملی تھی۔ اس کے بعد سرگرم ہوئی ڈی ایس ٹی ٹیم نے پرتاپ نگر سے کرشنا کمار سینی اور شنکر لال جاٹ کو گرفتار کیا۔ تلاشی کے دوران ان کے بیگ سے 2 ڈائریاں برآمد ہوئیں، جن میں امتحان دینے والے طلبہ کے نام اور ان سے لی گئی رقم کا مکمل حساب-کتاب درج تھا۔


ملزمان کے موبائل فون کی واٹس ایپ چیٹ کی جانچ میں ’شنکر باجیا سر‘ کے نام سے چیٹ ملی، جس میں امتحان دینے والے طلبہ کے ایڈمٹ کارڈ کی پی ڈی ایف فائلیں شیئر کی گئی تھیں۔ ان ایڈمٹ کارڈز پر امتحان مرکز کے طور پر پربھا دیوی میموریل کالج کا نام درج تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران ملزمان نے اعتراف کیا کہ 45 طلبہ سے مجموعی طور پر 5.50 لاکھ روپے لیے گئے تھے۔ ان میں سے 27 جون کو ہی 3.27 لاکھ روپے رام کرشن منڈیوال کے ذریعے کالج کے بانی دیو کرشن منڈیوال کو دیے گئے تھے، تاکہ امتحان ہال میں من پسند انویجیلیٹر کی ڈیوٹی لگا کر نقل کرائی جا سکے۔