گیان واپی مسجد معاملے میں ٹی وی پر بحث و مباحثہ سے گریز ضروری: گلزار اعظمی

جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلم نمائندوں کا گیان واپی مسجد اور دیگر مساجد پر بحث کرنے کے لیے ٹی وی چینلوں پرجانا مناسب نہیں۔

گلزار احمد اعظمی
گلزار احمد اعظمی
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: گیان واپی مسجد مقدمہ وارانسی سیشن عدالت میں زیر سماعت ہے اور مسلم فریق (انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی) کی طرٖ ف سے وکلاء کامیاب پیروی کر رہے ہیں۔ دوسری طرف میڈیا میں بھی روز مقدمہ کو لیکر بحث و مباحثہ ہوتا ہے جس میں بحث کرنے والے گیان واپی مسجد کے سلسلہ میں کما حقہ واقفیت نہیں رکھتے جس کی بنا پر آگے چل کر مقدمہ کی کارروائی پر غلط اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔ ٹی وی بحث و مباحثہ میں جانب دار میڈیا مسلمانوں کی نمائندگی کے لئے ایسے لوگوں کو پیش کرتا ہے جنہیں ناتو مقدمہ کی نوعیت کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی مقدمہ کی پیچیدگیوں کی انہیں سمجھ ہوتی ہے۔

جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے آج ممبئی میں ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلم نمائندوں کو گیان واپی مسجد اور دیگر مساجد پر بحث کرنے کے لئے ٹی وی چینلوں پر جانا مناسب نہیں ہے، بغیر کسی تیاری کے بحث میں حصہ لینے والوں کو گودی میڈیا کے شکنجے سے بچنے کے لئے ایسے پروگرام میں شرکت نہیں کرنا چاہئے۔


گلزار اعظمی نے کہا کہ ایک جانب جہاں انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی ضلعی عدالت میں مقدمہ کی پیروی کر رہی ہے وہیں سپریم کورٹ میں وشو بھدرا پجاری پروہت مہا سنگھ اور دیگر نے پلیس آف ورشپ قانون 1991 کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے کہا ہے کہ یہ قانون غیر آئینی ہے لہذا اسے ختم کیاجائے تاکہ گیان واپی مسجد سمیت دیگر مساجد کو مندروں میں تبدیل کیا جاسکے۔

معاملے کی حساسیت اور اہمیت کے پیش نظر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی خاص ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند نے وشو بھدرا پجاری پروہت مہا سنگھ اور دیگر کی جانب سے داخل پٹیشن کی مخالفت کرنے کے لئے مداخلت کار کی درخواست سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل کردی ہے جس کا نمبر 54990/2020 IA- ہے۔ اس پٹیشن پر ایک مرتبہ 10جولائی 2020 کو سماعت عمل میں آئی تھی، جمعیۃ علماء کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ اور اب 19 جولائی 2022 کو ایک مرتبہ پھر اس پٹیشن پر سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت متوقع ہے۔


گلزار اعظمی نے کہا کہ پلیس آف ورشپ قانون کو چیلنج کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں دیگر ہندو تنظیموں نے پٹیشن داخل کی ہے، جمعیۃ علماء ہند ان تمام عرضداشتوں کی مخالفت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی اور دیگر ذرائع ابلاغ پر بحث کرنے والے نام نہاد مسلم نمائندوں کو اپنی روش سے باز آجانا چاہئے، ان کی ان حرکتوں سے فائدہ تو کچھ ہوگا نہیں لیکن نقصان ضرور ہوگا۔ مباحثہ میں حصہ لینے والے حضرات اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ فیصلہ ٹی وی چینلوں پر نہیں بلکہ عدالتوں میں ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔