مسجد اقصیٰ میں نمازِ جمعہ پر پابندی، اسرائیلی انتظامیہ نے قدیم شہر کے تمام مذہبی مقامات بند کر دیے

ایران کے ساتھ جاری جنگی کشیدگی کے دوران اسرائیلی انتظامیہ نے مشرقی یروشلم کی مسجد اقصیٰ میں جمعہ کی نماز پر پابندی لگا دی اور قدیم شہر کے تمام مذہبی مقامات عارضی طور پر بند کر دیے

<div class="paragraphs"><p>تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے درمیان اسرائیلی انتظامیہ نے ایک متنازع فیصلہ کرتے ہوئے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پورے خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے اور سکیورٹی خدشات میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔

اسرائیلی سول انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام حفاظتی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل اور خطے کے مختلف حصوں پر مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے پیش نظر احتیاطی اقدامات ضروری ہو گئے تھے۔ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ قدیم شہر کے اندر موجود تمام بڑے مذہبی مقامات کو عارضی طور پر بند کیا جا رہا ہے۔

اس فیصلے کے تحت مسجد اقصیٰ کے ساتھ ساتھ مغربی دیوار اور دیگر مذہبی عبادت گاہوں میں بھی عام افراد کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ احکامات تک نہ تو عبادت گزاروں اور نہ ہی سیاحوں کو ان مقامات میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ فی الحال قدیم شہر میں صرف وہی افراد داخل ہو سکتے ہیں جو وہیں رہائش رکھتے ہیں یا جن کی دکانیں اس علاقے میں واقع ہیں۔


اسرائیلی اقدام پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ مسجد اقصیٰ کے سینئر امام عکرمہ صابری نے کہا کہ اسرائیلی انتظامیہ ہر موقع کو مسجد اقصیٰ کو بند کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ مذہبی آزادی کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔

مسجد اقصیٰ کے حوالے سے کشیدگی کوئی نئی بات نہیں ہے اور ماضی میں بھی مختلف مواقع پر وہاں عبادت کے لیے آنے والے فلسطینیوں پر پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں۔ گزشتہ ماہ بھی رمضان کے آغاز پر مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینی نمازیوں کی تعداد محدود کر کے صرف دس ہزار تک کر دی گئی تھی، جبکہ عام طور پر یہاں لاکھوں افراد جمع ہوتے ہیں۔

مسجد اقصیٰ کا وسیع احاطہ ایک وقت میں تقریباً پانچ لاکھ افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش رکھتا ہے۔ یہ مقدس مقام یروشلم کے قدیم شہر میں واقع ہے، جس پر 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق اس علاقے کی حیثیت متنازع ہے، تاہم وہاں کی سکیورٹی اور داخلی انتظام اسرائیلی حکام کے ہی ہاتھ میں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔