کیا رام مندر نذرانہ چوری معاملہ میں چمپت رائے کو ’بلی کا بکرا‘ بنایا جا رہا ہے؟

ٹرسٹ کا اپنا نگرانی کا نظام بھی اب جانچ کے دائرے میں آ گیا ہے۔ تنازعہ کے شدت اختیار کرنے سے پہلے ٹرسٹ کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ اندرونی آڈٹ میں چندے کے عمل میں کسی قسم کی بے ضابطگی نہیں پائی گئی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>پی ایم مودی (درمیان میں) اور آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت (دائیں) کے ساتھ چمپت رائے، تصویر ’ایکس‘</p></div>
i

جب چمپت رائے نے 27 جون کو رام مندر نذرانہ یا چندہ چوری تنازعہ کی ’اخلاقی ذمہ داری‘ قبول کرتے ہوئے ’شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ‘ کے جنرل سکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دیا، تو یہ اس مبینہ گھوٹالے میں اب تک جوابدہی کا سب سے بڑا قدم تھا۔ اسی دن ٹرسٹی انل مشرا نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ 3 دن بعد (30 جون کو) اتر پردیش پولیس نے رام مندر نذرانہ چوری معاملے کی جانچ کر رہی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تحقیقات کے تحت چمپت رائے کا بیان درج کیا۔

ان واقعات نے چمپت رائے کو اس تنازعہ کا مرکزی عوامی چہرہ بنا دیا ہے۔ لیکن جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں، ایک بڑا سوال سامنے آ رہا ہے کہ کیا چمپت رائے اور انل مشرا پر توجہ مرکوز ہونے کے باعث یہ بنیادی سوال دب تو نہیں گیا کہ آخر رام مندر کے چندے، نذرانوں اور دیگر رقم کے انتظام کی اصل ذمہ داری کس پر عائد تھی؟ اس سوال نے 30 جون کو اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے کہا کہ مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں وضاحت پیش کرنے کی بنیادی ذمہ داری ٹرسٹ کے خزانچی گووند دیو گری پر عائد ہونی چاہیے، اس کے بعد ٹرسٹی انیل مشرا پر، اور پھر جنرل سکریٹری پر۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’بنیادی ذمہ داری خزانچی کی ہے، اس کے بعد انل مشرا کی۔ چمپت رائے کی ذمہ داری تیسرے نمبر پر آتی ہے۔ پھر بھی آپ چمپت رائے کو پہلے نمبر پر رکھ رہے ہیں، یہ کیسا انصاف ہے؟‘‘


چاہے کوئی اویمکتیشورانند کی بات سے اتفاق کرے یا نہ کرے، لیکن ان کے بیان نے بحث کو انفرادی قصور سے آگے بڑھا کر ادارہ جاتی جوابدہی کی طرف موڑ دیا ہے۔ جیسے جیسے مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق مزید انکشافات اور معلومات سامنے آ رہی ہیں، سوالات بھی مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔

منگل، 30 جون کو ’ہندوستان ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں گرفتار کیے گئے 8 افراد میں سے 6 وارانسی کی ایک سیکورٹی ایجنسی کے ملازم تھے، نہ کہ ٹرسٹ کے براہ راست ملازم۔ ایجنسی کے مالک نے اخبار کو بتایا کہ انہیں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی نیا گھاٹ برانچ نے چندے کی گنتی کے لیے عملہ فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی اور اسی بینک نے اس کام کے لیے تعینات کیے جانے والے ملازمین کی سفارش کی تھی۔ خبروں کے مطابق گرفتار شدگان میں صرف ایک شخص، رام شنکر یادو عرف ٹنّو، ایسا تھا جسے ٹرسٹ نے براہ راست چمپت رائے کے معاون کے طور پر مقرر کیا تھا۔


ان انکشافات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جو ابتدا میں ٹرسٹ کے اندر بے ضابطگی کا ایک سادہ سا معاملہ دکھائی دے رہا تھا۔ اگر گنتی کے بیشتر عمل کی ذمہ داری بیرونی عملے پر تھی، تو پھر انتظامی ذمہ داری کس کی تھی؟ گنتی کی نگرانی کس نے کی؟ چندے کی رقم جمع کرانے سے پہلے اعداد و شمار کی تصدیق کس نے کی؟ اور اگر اس پورے عمل میں متعدد ادارے شامل تھے، تو کیا واقعی جوابدہی کو صرف 2 استعفوں تک محدود کیا جا سکتا ہے؟

ٹرسٹ کا اپنا نگرانی کا نظام بھی اب جانچ کے دائرے میں آ گیا ہے۔ تنازعہ کے شدت اختیار کرنے سے پہلے ٹرسٹ کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ اندرونی آڈٹ میں چندے کے عمل میں کسی قسم کی بے ضابطگی نہیں پائی گئی تھی۔ اس کے باوجود ایس آئی ٹی کی ابتدائی تحقیقات میں سیکورٹی میں کوتاہی اور معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) کی خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔ اگر دونوں باتیں درست ہیں، تو فطری طور پر مزید ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مبینہ بے ضابطگیاں آڈٹ کے عمل کی نظر سے کیسے اوجھل رہ گئیں؟


کچھ دیگر حل طلب مسائل بھی موجود ہیں۔ رپورٹس میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے غائب ہونے اور چندہ وصول کرنے والے علاقوں میں نگرانی کے نظام میں خامیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ تفتیش کاروں نے ابھی تک عوامی طور پر یہ واضح نہیں کیا ہے کہ یہ مسائل تکنیکی خرابی، انتظامی کوتاہی یا جان بوجھ کر کی گئی چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ تھے۔ تحقیقات کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اتر پردیش حکومت نے اس ماہ کے آغاز میں ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی، اور اگرچہ سینئر آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران تحقیقات کی قیادت کر رہے ہیں، لیکن اس کی مجموعی ساخت، یا یہ کہ فارنسک اکاؤنٹنگ، بینکاری اور مالیاتی آڈٹ کے ماہرین اس تحقیقات میں شامل ہیں یا نہیں، اس بارے میں عوامی سطح پر بہت کم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

چونکہ اس معاملے میں صرف مبینہ چوری ہی نہیں بلکہ نظم و نسق، مالیاتی کنٹرول اور ادارہ جاتی نگرانی کے معاملات بھی شامل ہیں، اس لیے تحقیقات کے دائرۂ کار میں زیادہ شفافیت سے یہ واضح کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ صرف انفرادی مجرمانہ ذمہ داری کا جائزہ لیا جا رہا ہے یا نظامی خامیوں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ ان تمام باتوں سے چمپت رائے کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری اور اس کے سب سے نمایاں عوامی چہرے کی حیثیت سے نگرانی میں ہونے والی کوتاہی کی ذمہ داری ان پر عائد کی جا سکتی ہے، چاہے تحقیقات میں یہ سامنے آئے کہ مبینہ خرد برد میں ان کا کوئی براہ راست کردار نہیں تھا۔ یہی بات انل مشرا پر بھی نافذ ہو سکتی ہے، جنہوں نے اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ دیا ہے۔ لیکن ’اخلاقی ذمہ داری‘ اور قانونی طور پر قصوروار ہونا ایک ہی چیز نہیں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔