ایران کا اہم پاور پلانٹس کے گرد انسانی زنجیر کا اعلان، نوجوان بنیں گے حفاظتی ڈھال

امریکی صدر کی جارحانہ پریس کانفرنس کے بعد ایران میں عوامی سطح پر غیرمعمولی ردعمل سامنے ‏آیا ہے جہاں لاکھوں افراد بشمول خواتین ملک کے دفاع میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لیے خود کو پیش کر دیا۔

<div class="paragraphs"><p>ایران-اسرائیل جنگ، تصویر اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی ڈیڈ لائن قریب آنے سے پہلے ایران نے بڑا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ تہران نے مبینہ طور پر نوجوان شہریوں سے ایران کے اہم پاور پلانٹس کے اطراف میں علامتی انسانی زنجیر بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ایران کی وزارت کھیل اور یوتھ نے کھلاڑیوں، فنکاروں اور طلباء سمیت ملک کے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منگل کے روز دوپہر 2 بجے (مقامی وقت کے مطابق) سے ان سائٹس کے ارد گرد جمع ہوں۔ ایران کے نوجوانوں کے امور کے نائب وزیر علی رضا رحیمی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ کئی یونیورسٹی کے نوجوانوں، نوجوان فنکاروں اور نوجوانوں کی تنظیموں نے تجویز دی ہے کی کہ ہم ملک کے پاور پلانٹس کے چاروں طرف ایک انسانی حصار یا انسانی زنجیر بنائیں۔

خبروں کے مطابق علی رضا رحیمی کی اپیل کے بعد قوم کے نوجوانوں میں نیا جوش وولولہ دیکھا جارہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ملک کے عوام کے ساتھ نوجوان ملک کی حفاظت کے لیے سر پر کفن باندھ کر نکل پڑے ہیں۔ اس سے پہلے گزشتہ رات امریکی صدر کی جارحانہ پریس کانفرنس کے بعد ایران میں عوامی سطح پر غیرمعمولی رد عمل سامنے ‏آیا ہے جہاں لاکھوں افراد نے ملک کے دفاع میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لیے خود کو پیش کر دیا۔


اس سلسلے میں ایرانی وزیر داخلہ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ممکنہ محاذ آرائی کے پیش نظر گزشتہ 10 دنوں میں ایک کروڑ 20 لاکھ افراد نے رضاکارانہ طور پر اپنی رجسٹریشن مکمل کرالی ہے۔ رجسٹریشن میں گزشتہ روز غیر معمولی اضافہ نظر آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے فوج کا حصہ بنیں، جس پر بھرپور اور تیز رفتار ردعمل دیکھنے میں آیا۔ وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ رجسٹریشن کا عمل بدستور جاری ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے شہریوں کی بڑی تعداد اس میں حصہ لے رہی ہے، جو دفاع وطن کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا نے ایک ویڈیو بھی نشر کی ہے جس میں سیستان سے تعلق رکھنے والے افراد کو جنگی تیاریوں اور ملک کے دفاع کے عزم کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔

علی رضا رحیمی نے بتایا کہ ’روشن مستقبل کے لیے ایرانی نوجوانوں کی انسانی زنجیر‘ نامی مہم کا مقصد ملک کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کے لیے نوجوانوں کے عزم کو ظاہر کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ملک بھر سے نوجوانوں کی شرکت سے پاور پلانٹوں کے چاروں طرف یہ انسانی زنجیر بنے گی اور یہ ملک کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت  کرنے اور روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے نوجوانوں کے عزائم کی علامت ہوگا۔