ایرانی میڈیا کا دعویٰ: امریکہ کے ساتھ مجوزہ سمجھوتے کا مسودہ تیار، آبنائے ہرمز کھلنے کی راہ ہموار

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ سمجھوتے کا ابتدائی مسودہ تیار ہو گیا ہے۔ دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال ہوگی جبکہ امریکہ فوجی موجودگی کم کر سکتا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصاویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

تہران: ایران کے مختلف ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ممکنہ سمجھوتے کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر رسمی یادداشتِ مفاہمت کا ابتدائی خاکہ تیار کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت بحال ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ مسودے میں یہ تجویز رکھی گئی ہے کہ ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو تنازعہ سے پہلے کی سطح تک بحال کرے گا۔ اس کے بدلے امریکہ ایران کے اطراف اپنی فوجی موجودگی کم کرے گا اور بحری دباؤ میں نرمی لائے گا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ تہران کو امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے سے متعلق ایک غیر رسمی مسودے کی نقل موصول ہو چکی ہے۔


رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک میں یہ بھی شامل ہے کہ امریکہ ایران کے گرد علاقوں میں اپنی فوجی سرگرمیوں میں کمی لانے یا انہیں محدود کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ تاہم فوجی تنصیبات، تعینات دستوں اور خطے میں سکیورٹی سے متعلق دیگر نکات پر مزید مذاکرات کی ضرورت بتائی گئی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے میزان نے بھی مجوزہ فریم ورک کی مزید تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے میں کئی مرحلوں پر مشتمل امن عمل شامل کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ کے خاتمے کے لیے بتدریج اقدامات تجویز کیے گئے ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو سکے۔

رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ اگر 60 دن کے اندر حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے تاکہ اسے بین الاقوامی حیثیت حاصل ہو سکے۔ اس کے باوجود کئی اہم معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔ افزودہ یورینیم، ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور دیگر حساس امور پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران اس علاقے میں جہاز رانی اور تیل کی سپلائی سے متعلق عالمی سطح پر خدشات پیدا ہو گئے تھے۔ اگر مجوزہ سمجھوتہ آگے بڑھتا ہے تو اس کے عالمی توانائی بازار اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔