ایران کی دھمکی: زمینی حملہ ہوا تو امریکی فوجی خلیج فارس میں شارک کی خوراک بنیں گے
ایران نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ زمینی حملے کی صورت میں امریکی فوج کو شدید نقصان اٹھانا پڑے گا۔ بڑھتی کشیدگی کے درمیان دونوں ممالک کے بیانات نے خطے میں تشویش بڑھا دی ہے

نئی دہلی/تہران: ایران نے امریکہ کو ایک بار پھر سخت اور غیر معمولی انداز میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے ایرانی سرزمین پر کسی بھی قسم کا زمینی حملہ کیا تو امریکی فوجیوں کو سنگین اور ناقابلِ برداشت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ایسی کسی بھی کوشش کی صورت میں امریکی افواج "خلیج فارس میں شارک مچھلیوں کی خوراک" بن جائیں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی مسلح افواج نہ صرف مکمل طور پر تیار ہیں بلکہ طویل عرصے سے ایسے کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے منصوبہ بندی کر چکی ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ اگر کسی خوش فہمی میں مبتلا ہو کر ایرانی علاقے پر قبضے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ذلت آمیز شکست، قید اور مکمل تباہی جیسے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات ہیں کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً دس ہزار اضافی امریکی فوجیوں کو خطے میں تعینات کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جنہیں ممکنہ زمینی کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیرونی دباؤ کے زیرِ اثر فیصلے کر رہے ہیں اور ان کی پالیسی غیر مستقل اور ناقابلِ بھروسہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی قیادت نے ایسے افراد کے ہاتھ میں فوجی کمان دے دی ہے جن کے فیصلے پہلے ہی امریکی افواج کو ایک "مہلک دلدل" میں دھکیل چکے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی اسی نوعیت کا سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی افواج امریکی فوجیوں کے زمینی سطح پر آنے کا انتظار کر رہی ہیں تاکہ انہیں سخت سبق سکھایا جا سکے۔ انہوں نے مذاکرات کی باتوں کو محض ایک پردہ قرار دیا اور کہا کہ خطے میں امریکی فوجیوں کی آمد دراصل کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہے۔
ادھر ایرانی اخبار تہران ٹائمز نے بھی امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے اپنے پہلے صفحے پر ایک علامتی تصویر کے ساتھ خبردار کیا کہ ایرانی سرزمین پر قدم رکھنے والے امریکی فوجی صرف تابوت میں واپس جائیں گے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر کوئی فوجی کارروائی ہوئی تو وہ طویل عرصے تک جاری نہیں رہے گی، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام آپشنز ابھی میز پر موجود ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دونوں ممالک کے سخت بیانات نے ایک ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔