اقوامِ متحدہ میں ایران کا امریکہ پر شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا الزام، حملے فوری روکنے کا مطالبہ
ایران نے اقوامِ متحدہ سے امریکہ کے حملے فوری روکنے اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرانے کا مطالبہ کیا۔ ایرانی مندوب نے شہری ڈھانچے اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا

تہران/اقوامِ متحدہ: ایران نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کے حملوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے معاملے میں واشنگٹن کو جواب دہ ٹھہرائے۔ اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے امریکی کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
امیر سعید ایروانی نے اپنے خط میں کہا کہ امریکی حملوں میں بندرگاہوں، نقل و حمل کے نظام، مواصلاتی تنصیبات، لاجسٹک مراکز، ریڈار نظام، ساحلی دفاعی ڈھانچوں اور دیگر اہم شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جو عام شہریوں کی زندگی اور ملکی معیشت کے لیے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں، زخمیوں، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور ماحولیاتی نقصان کی مکمل ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔
ایرانی مندوب نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے جاری فوجی کارروائیاں بین الاقوامی امن و سلامتی، سمندری آمد و رفت کی آزادی، علاقائی استحکام اور خلیج فارس و آبنائے ہرمز کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنے منشور کے تحت عائد بنیادی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ان خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے ایک حملے میں صوبہ ہرمزگان کے جاسک کاؤنٹی کے ساحلی گاؤں بونجی میں واقع سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے ایک پلانٹ کے پمپنگ نظام کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں تقریباً بیس دیہات میں پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ ہرمزگان واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی کے سربراہ حمزہ پور کے مطابق اس واقعے سے تقریباً دس ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پلانٹ کے پمپنگ اسٹیشن اور بجلی کا ایک ٹرانسفارمر مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں پانی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے اور فراہمی بحال کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دریں اثنا، اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم کے مطابق کویت میں الاحمدی بندرگاہ پر امریکی بحریہ کے ایندھن سپورٹ مرکز اور بحرین کے شیخ عیسیٰ فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بحرین میں امریکی انٹیلی جنس ڈیٹا مرکز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اقوامِ متحدہ اس معاملے میں مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
