آئی پی ایل 2023: آج چنئی اور لکھنؤ دونوں نے ہی اپنے اپنے مقابلے جیت کر پلے آف میں بنائی جگہ

کولکاتا اور لکھنؤ کے درمیان مقابلہ انتہائی دلچسپ رہا جس میں کولکاتا کو ایک رن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، اس جیت کے ساتھ لکھنؤ نے پلے آف میں بھی انٹری حاصل کر لی۔

<div class="paragraphs"><p>آئی پی ایل 2023، تصویر @IPL</p></div>

آئی پی ایل 2023، تصویر @IPL

user

تنویر

آج آئی پی ایل 2023 میں ڈبل ہیڈر مقابلہ کھیلا گیا جو چنئی اور لکھنؤ کے لیے انتہائی اہم تھا۔ ان دونوں ہی ٹیموں کے پوائنٹس ٹیبل میں 15-15 پوائنٹس تھے اور اپنا اپنا آخری میچ جیت کر دونوں ہی ٹیمیں 17-17 پوائنٹس کے ساتھ پلے آف میں پہنچ گئی ہیں۔ چنئی نے دہلی کو 77 رنوں سے شکست دی جبکہ لکھنؤ نے کولکاتا کو دلچسپ مقابلے میں ایک رن سے شکست دی۔ اب تک پلے آف کے لیے تین ٹیمیں (گجرات، چنئی، لکھنؤ) فائنل ہو گئی ہیں اور چوتھی ٹیم کے لیے اتوار کا انتظار ہے جب ڈبل ہیڈر میچ میں سے کسی ایک ٹیم کو کامیابی ملے گی۔ پہلا مقابلہ ممبئی اور حیدر آباد کے درمیان کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا مقابلہ بنگلور اور گجرات کے درمیان کھیلا جائے گا۔ حیدر آباد پہلے ہی پلے آف سے باہر ہو چکی ہے اور گجرات پلے آف میں جگہ بنا چکی، اس لیے میچ کی اہمیت ممبئی اور بنگلور کے لیے زیادہ ہے کیونکہ دونوں کے پاس فی الحال 14-14 پوائنٹس ہیں۔ کل اگر ممبئی اور بنگلور اپنے اپنے میچ جیتتے ہیں تو پھر رَن ریٹ بہتر رکھنے والی ٹیم کو پوائنٹس ٹیبل میں چوتھا مقام حاصل ہوگا۔

آج کھیلے گئے پہلے مقابلے میں چنئی سپرکنگز کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا اور رنوں کا ایک پہاڑ دہلی کیپٹلز کے سامنے کھڑا کر دیا۔ سلامی بلے باز ریتوراج گائیکواڈ (50 گیندوں پر 79 رن) اور ڈیوون کانوے (52 گیندوں پر 87 رن) کی طوفانی اننگ کی بدولت چنئی نے 20 اوورس میں 3 وکٹ کے نقصان پر 223 رن بنائے تھے جس کا دہلی کیپٹلز کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ چنئی کی طرف سے شیوم دوبے نے بھی 9 گیندوں پر دھواں دھار 22 رن اور رویندر جڈیجہ نے 7 گیندوں پر ناٹ آؤٹ تیز طرار 20 رن بنائے۔ کپتان دھونی نے 4 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 5 رنوں کا تعاون کیا۔


دہلی کی طرف سے صرف چیتن ساکریا (4 اوور میں 36 رن دے کر 1 وکٹ) ایسے گیندباز رہے جنھوں نے فی اوور 9 رن کے ریٹ سے رن دیے۔ باقی سبھی نے 10 سے زیادہ فی اوور کی رفتار سے رَن لٹائے۔ خلیل احمد اور اینرک نارخیا کو 1-1 وکٹ ضرور ملے لیکن یہ دونوں بھی بہت مہنگے رہے۔

دہلی کے بلے باز جب 224 رنوں کے ہدف کا پیچھا کرنے اترے تو شروع سے ہی پچھڑتے ہوئے دکھائی دیے۔ پرتھوی شا محض 5 رن بنا کر آؤٹ ہو گئے، اور پھر فل سالٹ (3 رن)، ریلی روسو (صفر)، یش دھل (13 رن)، اکشر پٹیل (15 رن) اور امن خان (7 رن) بھی جلدی جلدی پویلین لوٹ گئے۔ ایک طرف سے کپتان ڈیوڈن دھون جمے رہے لیکن تنہا وہ جیت نہیں دلا سکتے تھے۔ وہ 58 گیندوں پر 86 رن بنا کر پویلین لوٹے، اور پھر جیت چنئی کے لیے بس ایک رسم رہ گئی۔ للت یادو 6 رن اور کلدیپ یادو بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گئے۔ 20 اوور میں دہلی 9 وکٹ کے نقصان پر محض 146 رن بنا سکی اور 77 رنوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔


چنئی کی طرف سے سبھی گیندباز وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ سب سے زیادہ کامیاب گیندباز دیپک چاہر رہے جنھوں نے 4 اوور میں 22 رن دے کر 3 وکٹ لیے۔ 2-2 وکٹ مہیش تیکشنا (4 اوور میں 23 رن) اور متھیشا پتھیرانا (4 اوور میں 22 رن) کو ملے، جبکہ 1-1 وکٹ تشار دیشپانڈے (4 اوور میں 26 رن) اور رویندر جڈیجہ (4 اوور میں 50 رن) نے حاصل کیے۔

دوسرا مقابلہ آج کولکاتا نائٹ رائیڈرس اور لکھنؤ سپر جائنٹس کے درمیان ہوا جس میں ٹاس کولکاتا کے کپتان نتیش رانا نے جیتا۔ انھوں نے پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا جو شروع میں تو بہتر ثابت ہو رہا تھا، لیکن آخر کے کچھ اوورس میں کولکاتا کے گیندباز اچھی گیندبازی کرنے میں ناکام رہے۔ لکھنؤ کی طرف سے کوئنٹن ڈیکاک نے 28 رن، پریرک مانکڈ نے 26 رن، آیوش بدونی نے 25 رن اور کرشنپا گوتم نے 4 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 11 رنوں کا تعاون کیا، جبکہ سب سے بہترین بلے بازی نکولس پورن نے کی جو 30 گیندوں پر 58 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ پورن کی وجہ سے ہی لکھنؤ 20 اوور میں 8 وکٹ کے نقصان پر 176 رن بنانے میں کامیاب ہو سکی۔ ایک وقت لکھنؤ کے 73 رن پر 5 وکٹ گر گئے تھے، لیکن اس کا فائدہ کولکاتا کے گیندبازوں نے نہیں اٹھایا۔ نتیش رانا نے 8 گیندبازوں کا استعمال کیا لیکن رنوں کی رفتار کم نہیں ہو سکی۔


جب کولکاتا کے سلامی بلے باز 177 رنوں کا پیچھا کرنے اترے تو یہ اسکور کوئی بہت بڑا نہیں تھا، اور شروعات بھی اچھی ملی تھی لیکن درمیان کے اوورس میں جلدی جلدی وکٹ گنوانے اور رنوں کی رفتار دھیمی ہونے سے مشکلیں بڑھ گئیں۔ سلامی بلے بازوں ونکٹیش ایر نے 15 گیندوں پر 24 رن اور جیسن رائے نے 28 گیندوں پر 45 رن بنائے۔ کپتان نتیش رانا محض 8 رن اور رحمان اللہ گرباز 10 رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ یہاں سے رنکو سنگھ نے باگ ڈور سنبھالی اور ایک طرف وکٹ گرتے رہے لیکن وہ دوسری طرف رن بناتے رہے۔ وہ ٹیم کو تقریباً جیت دلا ہی چکے تھے، لیکن پوری کوششوں کے باوجود کولکاتا کو ایک رن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ رنکو سنگھ نے 33 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 67 رن بنائے۔ 20 اوور میں کولکاتا 7 وکٹ کے نقصان پر 175 رن ہی بنا سکی۔

لکھنؤ کی گیندبازی قابل تعریف کہی جائے گی کیونکہ رنوں سے بھرے پچ پر انھوں نے کولکاتا کو 175 رن تک روک دیا۔ روی بشنوئی سب سے بہترین گیندباز رہے جنھوں نے 4 اوور میں 23 رن دے کر 2 وکٹ لیے۔ 2 وکٹ یش ٹھاکر کو بھی ملے جنھوں نے 3 اوور میں 31 رن دیے۔ کرونال پانڈیا اور کرشنپا گوتم کو 1-1 وکٹ ملے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔