آن لائن کوچنگ میں سرکاری وسائل لگانا جواب دہی سے بچنے کی ’نوٹنکی‘، جے رام رمیش کا مودی حکومت پر حملہ

کانگریس نے آن لائن کوچنگ میں سرکاری وسائل کے استعمال پر مودی حکومت کو نشانہ بنایا۔ جے رام رمیش نے مفت کوچنگ اسکیم کے اہداف پورے نہ ہونے کو حکومت کی ناکامی قرار دیا

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i

نئی دہلی: کانگریس نے جمعہ کو ملک کے ’خستہ حال‘ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور سرکاری تعلیم میں سرمایہ کاری بڑھانے کے بجائے آن لائن کوچنگ میں سرکاری وسائل لگانے کے فیصلے پر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے الزام عائد کیا کہ یہ فیصلہ ’جوابدہی سے بچنے کی ایک نوٹنکی‘ ہے۔

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ حکومت کی موجودہ مفت کوچنگ اسکیم بھی گزشتہ تین برسوں سے اپنے مقررہ ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسے میں اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی حکومت کی صلاحیت پر بھروسہ کرنا مشکل ہے۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت کو تین برسوں کے دوران مفت کوچنگ کے لیے 10,500 امیدواروں کا اندراج کرنا تھا، لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہو سکا ہے۔ ان کے مطابق یہ مقررہ ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس اسکیم کے لیے مختص بجٹ میں ہر سال کمی آئی ہے اور گزشتہ سال اس مد میں حقیقی خرچ بجٹ میں مختص رقم کے نصف سے بھی کم رہا۔ جے رام رمیش کے مطابق یہ اعداد و شمار سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت سے متعلق پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جو 10 اگست کو پیش کی گئی تھی۔


کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام کے دوران تعلیم سے متعلق ایک اہم مسئلہ اٹھایا تھا۔ راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ’’ایک استحصالی کوچنگ صنعت‘‘ نے سرکاری تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور بھارتی خاندان اب کوچنگ مراکز پر مرکزی حکومت کی جانب سے تعلیم پر کیے جانے والے اخراجات کے مقابلے میں 2.5 گنا زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں۔

جے رام رمیش نے الزام عائد کیا کہ ملک کے ’’خستہ حال تعلیمی نظام‘‘ کو بنیادی سطح پر درست کرنے یا سرکاری تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ قدم تعلیم کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بجائے ایک ایسے ماڈل کو فروغ دینے کے مترادف ہے جس میں حکومت اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس رہنما نے الزام لگایا، ’’یہ جواب دہی سے بچنے کی ایک نوٹنکی ہے اور یہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔‘‘

جے رام رمیش نے زور دیا کہ حکومت کو آن لائن کوچنگ جیسے متبادل اقدامات پر سرکاری وسائل خرچ کرنے کے بجائے ملک کے خستہ حال تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر درست کرنے، سرکاری تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ خاطر خواہ سرمایہ کاری کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔