’شدھی کرن‘ کرنے والوں پر کارروائی کے بجائے راہل گاندھی پر ایف آئی آر، یہی ہے بی جے پی حکومت کا انصاف؟ کماری شیلجا
کماری شیلجا نے کہا کہ ’’راہل گاندھی نے وہی سوال اٹھایا جسے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے خود پارلیمنٹ میں اٹھا چکے ہیں کہ ’شدھی کرن‘ کے اس عمل نے انہیں چھوا چھوت کا احساس کرایا اور ان کی توہین کی۔‘‘

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کے خلاف اتراکھنڈ کے ہلدوانی تھانہ میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ درج فہرست ذات سے تعلق رکھنے والے نوجوان امت کمار کی شکایت پر درج اس ایف آئی آر میں راہل گاندھی پر درج فہرست ذات کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس پر کانگریس کی رکن پارلیمنٹ کماری شیلجا کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی عوامی ریلی کے بعد ‘شدھی کرن‘ کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں، لیکن اس ذات پات پر مبنی عمل کے خلاف آواز اٹھانے والے حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی پر ایف آئی آر، یہی بی جے پی حکومت کا انصاف ہے؟‘‘
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کماری شیلجا مزید لکھتی ہیں کہ ’’پہلے شدھی کرن کیا گیا گیا۔ پھر اتراکھنڈ بی جے پی صدر نے کھلے عام اس کا دفاع کیا۔ اور اب راہل گاندھی نے قصورواروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا تو اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت میں الٹا انہی کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا۔‘‘ ان کے مطابق یہ اتفاق نہیں بلکہ بی جی پی اور آر ایس اس کی دلت مخالف اور آئین مخالف سوچ کی انتہائی سنگین مثال ہے۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’راہل گاندھی نے وہی سوال اٹھایا جسے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے خود پارلیمنٹ میں اٹھا چکے ہیں کہ ’شدھی کرن‘ کے اس عمل نے انہیں چھوا چھوت کا احساس کرایا اور ان کی توہین کی۔ لیکن بی جے پی حکومت کا طریقہ دیکھیے، ’شدھی کرن‘ کرنے والوں پر سوال اٹھاؤ تو ایف آئی آر، دلتوں کے احترام کی بات کرو تو ایف آئی آر، آئین کے لیے آواز اٹھاؤ تو ایف آئی آر۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ ’’وزیر اعظم اس پورے معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟‘‘
کماری شیلجا کا کہنا ہے کہ ’’بی جے پی اور آر ایس ایس یہ غلط فہمی نکال دے کہ مقدمات کے خوف سے راہل گاندھی یا کانگریس پیچھے ہٹ جائے گی۔ یہ گاندھی خاندان ہے، جس کی ملک کے لیے ایثار اور قربانی کی تاریخ رہی ہے۔ ایف آئی آر اور اقتدار کا دباؤ اس آواز کو نہ ڈرا سکتا ہے، نہ دبا سکتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’کانگریس اس کا منہ توڑ جواب جمہوری اور قانونی طریقے سے دے گی۔ ’شدھی کرن‘ کی ذات پر مبنی ذہنیت کے خلاف، دلتوں کے احترام اور آئین کے تحفظ کے لیے یہ لڑائی پوری طاقت کے ساتھ لڑی جائے گی۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
