انڈین آئل کی بڑی کارروائی، 10600 معائنوں کے بعد کئی ایجنسیوں کو نوٹس
انڈین آئل نے بتایا کہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں 1.2 لاکھ سے زیادہ چھاپے مارے گئے ہیں اور 990 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، تاکہ ایل پی جی کی منصفانہ تقسیم کا نظام برقرار رہے۔
پورے ملک میں ایل پی جی کی منصفانہ فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے انڈین آئل کارپوریشن نے بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے۔ کمپنی نے اطلاع دی ہے کہ اب تک 10600 سے زائد معائنے کیے گئے ہیں اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اور ایجنسیوں کے خلاف سخت قدم اٹھائے گئے ہیں۔ ان میں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنا اور معطلی جیسی کارروائی شامل ہے۔
کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں 1.2 لاکھ سے زیادہ چھاپے مارے گئے ہیں اور 990 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، تاکہ ایل پی جی کی منصفانہ تقسیم کا نظام برقرار رہے۔ انڈین آئل نے کہا کہ انڈین گیس ڈسٹری بیوٹرس پر مسلسل نگرانی رکھی جا رہی ہے، تاکہ سروس کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے ہر اصل صارف تک گیس پہنچ سکے۔ انڈین آئل نے واضح کیا کہ گھریلو صارفین کے لیے ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ کمپنی کی توجہ شفافیت، کارکردگی اور بغیر کسی رکاوٹ کے تقسیم کو یقینی بنانے پر ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈائیورزن، کالابازاری اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے کڑی نگرانی اور سخت نفاذ کے اقدامات لاگو کیے گئے ہیں۔
حکومت کے مطابق 10 اپریل کو ملک بھر میں 51.5 لاکھ سے زیادہ گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی ڈیلیوری کی گئی۔ اسی دن تقریباً ایک لاکھ، 5 کلوگرام والے فری ٹریڈ ایل پی جی (ایف ٹی ایل) سلنڈر بھی فروخت کیے گئے، جبکہ فروری 2026 میں ان کی اوسط روزانہ فروخت تقریباً 77000 تھی۔ وزارت پٹرولیم نے بتایا کہ 23 مارچ 2026 سے اب تک 12 لاکھ سے زیادہ 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر طلبہ اور مہاجر مزدوروں جیسے کمزور طبقات کو فراہم کیے گئے ہیں۔ ان سلنڈروں کو ریاستی حکومتوں کے پاس رکھا جائے گا تاکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کی مدد سے انہیں خاص طور پر مہاجر مزدوروں تک پہنچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ سرکاری شعبے کی تیل کمپنیوں نے گزشتہ 8 دنوں میں تقریباً 2900 بیداری کیمپ لگائے، جن میں 29000 سے زائد 5 کلوگرام والے سلنڈر فروخت کیے گئے۔
وزارت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی گھبراہٹ میں خریداری نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع پر بھروسہ کریں۔ صارفین کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے گیس بک کرنے اور ڈسٹری بیوٹر کے پاس جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی پی این جی، بجلی یا انڈکشن جیسے متبادل ایندھن کے استعمال اور توانائی کی بچت پر بھی زور دیا گیا ہے۔