ہندوستان کی سرحد پر چینی ہتھیاروں کی تعیناتی پر پاکستان کو وارننگ

ہندوستانی وزارت خارجہ نے بیان دیا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی پر ہندوستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ملک اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

ہندوستان نے یہ بیان ان اطلاعات کے درمیان جاری کیا ہے کہ پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ سرحد پر بڑی تعداد میں چینی ساختہ ایس ایچ 15 خود سے چلنے والی توپیں تعینات کی ہیں۔ ہندوستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے جو بھی ضروری ہوگا وہ کرے گا۔ وزارت خارجہ نے یہ بیان اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں جاری کیا۔ وزارت کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی پر ہندوستان کا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔ ملک اپنے دفاع کے لیے تیار رہے گا۔

جیسوال نے کہا، "آپریشن سندور کے دوران، ہم نے پاکستان کو دیا گیا مناسب جواب دیکھا ہے۔ ہمارا موقف ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنا چاہیے۔ ہم اپنے قومی مفاد میں جو بھی ضروری ہو گا کریں گے۔ ہم اس سلسلے میں ہمیشہ چوکس ہیں۔"


مزید برآں، وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستانی مقبوضہ جمو ں اینڈ کشمیرمیں حالیہ انتخابات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں مکمل ڈھونگ قرار دیا اور پاکستان پر عوامی احتجاج کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ جیسوال نے کہا، "پاکستانی مقبوضہ جمو ں اینڈ کشمیرمیں نام نہاد بلدیاتی انتخابات مکمل طور پر دھوکہ دہی ہے۔ حقیقت میں، عوامی احتجاج اور پاکستانی فوج کی طرف سے اندھا دھند قتل ہے۔ اس طرح کی کھوکھلی مشقیں حقیقت کو چھپا نہیں سکتیں۔"

رندھیر جیسوال نے کہا، "اس سال جون سے کریک ڈاؤن میں کم از کم 90 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ پاکستانی انتظامیہ نے عوامی عدم اطمینان کا جواب فائرنگ، بجلی کی کٹوتی، ڈرانے دھمکانے اور جبر سے دیا ہے۔ اب وہ کھوکھلی انتخابی مشق کے ذریعے قانونی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہاہے۔ اس نے بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ اسلام آباد کا احتساب کرے۔"

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔